المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. ما عمل آدمي من عمل أنجى له من عذاب الله من ذكر الله عز وجل
آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
حدیث نمبر: 1847
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى وأبو مُسلِم، قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المُفضَّل، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة (1) ، عن صالح مولى التَّوأمة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال أبو القاسم ﷺ:"أيُّما قومٍ جَلَسوا فأطالوا الجلوس، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله، أو يصلُّوا على نبيِّه (2) ﷺ، إِلَّا كانت عليهم من الله تِرَةٌ، إن شاء عذَّبهم، وإن شاء غَفَرَ لهم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور کافی دیر اس میں بیٹھے رہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اُٹھ کر چلے جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حسرت زدہ اور شرمندہ ہوں گے۔ (آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو معاف کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1847]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1847 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: غريب، وضبَّب عليها في (ز).
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں یہاں "غریب" لکھا گیا ہے جسے نسخہ (ز) میں مشکوک قرار دیا گیا ہے۔
(2) في (ص) و (ع): "ويصلوا على النبي".
🔍 فنی نکتہ: نسخہ (ص) اور (ع) میں "نبی پر درود بھیجیں" کے الفاظ ہیں۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل صالح مولى التوأمة - وهو ابن نبهان - فهو صدوق حسن الحديث، وهو وإن كان قد اختلط إلّا أنَّ سماع عمارة بن غزية منه قبل الاختلاط، وتابعه أيضًا ابن أبي ذئب وزياد بن سعد - كما سيأتي في التخريج - وهما ممن سمع منه قبل الاختلاط أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور صالح مولیٰ التوامہ (ابن نبہان) کی وجہ سے سند "حسن" ہے؛ ان کے اختلاط سے پہلے عمارہ بن غزية، ابن ابی ذئب اور زیاد بن سعد نے ان سے سن لیا تھا۔
وأخرجه أحمد 15/ (9764) و 16/ (10277) و (10278)، والترمذي (3380) من طريق سفيان الثوري، وأحمد 15/ (9843) من طريق ابن أبي ذئب، و 16/ (10422) من طريق زياد بن سعد، ثلاثتهم عن صالح مولى التوأمة، بهذا الإسناد. أما الثوري فسماعه من صالح بعد اختلاطه. قال الترمذي: حديث حسن. ثم قال: ومعنى قوله: "ترة" يعني حسرة وندامة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ترمذی (3380) نے سفیان ثوری، ابن ابی ذئب اور زیاد بن سعد کے طریقوں سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن" کہا اور "ترہ" کا معنی حسرت و ندامت بتایا۔
وانظر ما سلف برقم (1829).
🔍 ہدایت: پیچھے گزری حدیث نمبر (1829) بھی دیکھیں۔
(4) تعقبه الذهبي في "التلخيص" بقوله: صالح ضعيف. قلنا: إنما ضعفوه بسبب اختلاطه، ¤ ¤ فإذا عرفنا أنَّ عمارة بن غزية قديم الرواية عنه زال سبب الضعف.
🔍 تحقیقی دفاع: امام ذہبی نے صالح کو ضعیف کہا ہے، مگر محققین کے نزدیک ان کا ضعف صرف اختلاط کی وجہ سے تھا، چونکہ عمارہ بن غزية ان کے پرانے راوی ہیں، اس لیے یہ ضعف دور ہو جاتا ہے۔