المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. ما عمل آدمي من عمل أنجى له من عذاب الله من ذكر الله عز وجل
آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
حدیث نمبر: 1848
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن يحيى بن سعيد، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عائشةَ قالت: ما كان رسولُ الله ﷺ يقوم من مجلسٍ إلَّا قال:"سُبحانَك اللهمَّ ربي وبحمدِك، لا إله إلَّا أَنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليك" فقلت له: يا رسول الله، ما أكثرَ ما تقول هؤلاء الكلمات إذا قمتَ! قال:"لا يقولُهنَّ أحدٌ حين يقوم من مَجلسِه، إِلَّا غُفِر له ما كان منه في ذلك المَجلِس" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے پہلے یوں کہتے: ” سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبِّی وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ “ میں نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ اٹھنے لگتے ہیں تو اکثر طور پر یہی الفاظ ادا کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے قبل یہ کلمات پڑھتا ہے اس کے اس مجلس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1848]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1848 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، رجاله ثقات، غير أنَّ زرارة بن أوفى ذكر المزي في ترجمته من "تهذيب الكمال" أن المحفوظ أنَّ بينه وبين عائشة سعد بن هشام. وقد أعله أبو حاتم بالاختلاف على الليث بن سعد فيه كما سيأتي. والليث: هو ابن سعد، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں، مگر زرارہ بن اوفہ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان 'سعد بن ہشام' کا واسطہ محفوظ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس میں لیث بن سعد، ابن الہاد اور یحییٰ بن سعید انصاری جیسے بڑے راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (10158) من طريق شعيب بن الليث بن سعد، عن أبيه، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10158) نے شعیب بن لیث عن ابیہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وخالف شعيبًا وابنَ بكير قتيبةُ بن سعيد، فقد أخرجه النسائي (10159) عنه، عن الليث، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، عن رجل من أهل الشام، عن عائشة.
🔍 سندی اختلاف: قتیبہ بن سعید نے لیث بن سعد سے اسے ایک گمنام شامی شخص کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
ورجَّح الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" 1/ 629 أنَّ ذكر زرارة بن أوفى عن عائشة وهمٌ، وأنَّ الصواب أنه كان ابن زرارة عن عائشة فوقع فيه حذف، والله أعلم. وانظر "علل ابن أبي حاتم" 6/ 333 - 335.
🔍 علّت / فنی نکتہ: حافظ ابن حجر کے نزدیک زرارہ بن اوفہ کا نام وہم ہے اور درست نام 'ابن زرارہ' تھا جہاں سے کچھ لفظ حذف ہو گئے ہیں۔
وأخرج أحمد 41/ (24486)، والنسائي (1268) و (10067) و (10160) من طريق عروة عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا جلس مجلسًا، أو صلَّى، تكلم بكلمات، فسألته عائشة عن الكلمات، فقال: "إن تكلم بخير كان طابعًا عليهن إلى يوم القيامة، وإن تكلم بغير ذلك كان كفارة؛ سبحانك الله وبحمدك، لا إله إلّا أنت أستغفرك وأتوب إليك". وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/24486) اور نسائی نے عروہ عن عائشہؓ کی سند سے روایت کیا کہ نبی ﷺ محفل کے اختتام پر "سبحانک اللہم وبحمدک..." پڑھتے تھے جو نیکیوں پر مہر اور گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ یہ سند صحیح ہے۔
وأخرج أحمد 40/ (24065) و 42/ (25508)، ومسلم (484)، وابن حبان (6411) و (6412) من طريق مسروق عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يكثر أن يقول قبل أن يموت: "سبحانك وبحمدك، أستغفرك وأتوب إليك" قلت: يا رسول الله، ما هذه الكلمات التي أراك أحدثتها تقولها؟ قال: "جُعلتْ لي علامة في أمتي، إذا رأيتها قلتها" ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ إلى ¤ ¤ آخر السورة.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم (484) اور ابن حبان نے مسروق عن عائشہؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ وفات سے پہلے بکثرت یہ کلمات پڑھتے تھے کیونکہ اللہ نے سورہ نصر میں انہیں اس کا حکم دیا تھا۔
ولحديث زرارة عن عائشة شواهد من أحاديث أبي هريرة وجبير بن مطعم وأبي برزة ورافع بن خديج، وستأتي أحاديثهم على التوالي (1990 - 1993)، وانظر تمام شواهده عند حديث أبي هريرة.
🧩 متابعات و شواہد: زرارہ کی روایت کے شواہد ابوہریرہؓ، جبیر بن مطعمؓ اور دیگر صحابہ سے مروی ہیں جو آگے نمبر (1990-1993) پر آئیں گے۔