المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. إن الله حيي كريم يستحي من عبده أن يبسط إليه يديه ثم يردهما خائبتين
بے شک اللہ حیا والا اور کریم ہے، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔
حدیث نمبر: 1851
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب التاجر بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سليمانُ التَّيمي، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سَلْمانَ قال: إِنَّ الله يَسْتَحْيي أَن يَبسُطَ العبدُ إليه يديه [يسألُه] (2) فيهما خيرًا فيردَّهما خائبتَين (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين. وقد وَصَلَه جعفر بن ميمون عن أبي عثمان النَّهْدي:
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اس بات سے حیاء فرماتا ہے کہ بندہ بھلائی کی طلب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے اور وہ اس کو نامراد واپس لوٹا دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور اس کی سند کو جعفر بن میمون نے ابوعثمان نہدی سے موصولاً بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1851]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1851 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين معقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من رواية يزيد بن هارون عند غير المصنف.
🔍 فنی نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت خطی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے یزید بن ہارون کی دیگر روایات سے مکمل کیا ہے۔