🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. الظوا بيا ذا الجلال والإكرام
یا ذوالجلال والاکرام کو لازم پکڑو (کثرت سے پڑھو)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن موسى بن عُقبة، عن محمد بن المُنكَدِر، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لهم:"أَتحبُّون أيها الناس أن تَجتَهِدوا في الدعاء؟" قالوا: نعم يا رسول الله، قال:"قولوا: اللهمَّ أَعِنَّا على ذِكرِكَ وشُكرِكَ وحُسْنِ عبادتِك" (2) .
هذا حديث صحيح، فإنَّ خارجة لم يُنقَم عليه إلَّا روايته عن المجهولين، وإذا روى عن الثقات الأثبات فروايتُه مقبولة (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! کیا تم یہ بات پسند کرتے ہو کہ تم دعا میں کوشش کرو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگا کرو: اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ اے اللہ تو اپنے ذکر، شکر اور حسنِ عبادت پر میری مدد فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ خارجہ پر صرف یہ اعتراض ہے کہ یہ مجہولین سے روایت کرتے ہیں۔ اور جب یہ ثقہ ثبت راویوں سے روایت لیں تو ان کی روایت مقبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1859]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1859 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف بمرّةٍ، خارجة - وهو ابن مصعب الخراساني - متروك الحديث، إلا أنه قد توبع، لكن في الإسناد اضطراب أيضًا كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر یہ سند "سخت ضعیف" ہے کیونکہ خارجہ بن مصعب "متروک" ہے؛ تاہم اس کی متابعت موجود ہے، اگرچہ سند میں اضطراب (الجھاؤ) پایا جاتا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الدعوات" (275) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 'الدعوات' میں امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
ورواه إبراهيم بن إسحاق السراج عن يحيى بن يحيى، فخالف إسماعيلَ بن قتيبة، فقد أخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (1180) عنه عن يحيى بن يحيى عن خارجة عن عبد الله بن عطاء عن موسى بن عقبة، به. لكن قال فيه: عن عطاء بن يسار أو عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة.
🔍 سندی اختلاف: ابن الاعرابی کی روایت میں شک کے ساتھ "عطاء بن یسار یا ابوصالح" کا ذکر ہے، جبکہ اس میں محمد بن المنکدر کا واسطہ نہیں۔
ورواه موسى بن طارق أبو قرة الزبيدي - فيما رواه عنه أحمد 13/ (7982)، ومن طريق أحمد أخرجه أبو نعيم في "الحلية" 9/ 223 - عن موسى بن عقبة عن أبي صالح السمان وعطاء بن يسار أو عن أحدهما عن أبي هريرة. هكذا قال، ولم يذكر فيه محمد بن المنكدر. ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: موسیٰ بن طارق کی روایت (مسند احمد 13/7982) میں بھی ابن المنکدر کا ذکر نہیں ہے، اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
وأخرجه أبو بكر الشافعي في "الغيلانيات" (620) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن مجبر عن محمد بن المنكدر عن عطاء وأبي صالح السمان عن أبي هريرة. ومحمد بن عبد الرحمن هذا متروك.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوبکر الشافعی کی روایت میں محمد بن عبدالرحمن بن مجبر "متروک" راوی ہے۔
ورواه أيضًا عبد العزيز بن عبد الله الماجشون عن محمد بن المنكدر - كما ذكر الدارقطني في "العلل" (1977) - واختلف عليه أيضًا، فقد رواه موسى بن إسماعيل التبوذكي عنه عن محمد ¤ ¤ ابن المنكدر عن عطاء بن يسار عن أبي صالح عن أبي هريرة، قال الدارقطني: والصحيح عن عبد العزيز الماجشون عن محمد بن المنكدر عن عطاء أو أبي صالح عن أبي هريرة.
🔍 علّت / فنی نکتہ: عبدالعزیز الماجشون کی روایت میں بھی اختلاف ہے، امام دارقطنی کے بقول صحیح یہ ہے کہ یہ "عطاء یا ابوصالح" سے مروی ہے۔
وقد روى الحديثَ هشام بنُ عروة عن محمد بن المنكدر مرسلًا، واختلف عليه فيه أيضًا، فقد أخرج ابن أبي الدنيا في "الشكر" (4) عن إسحاق بن إسماعيل، والبيهقي في "الدعوات" (274)، وفي "الشعب" (4098) من طريق محمد بن عبد الوهاب، كلاهما عن جعفر بن عون. وقرن ابن أبي الدنيا بابن عون أبا معاوية - عن هشام بن عروة عن محمد بن المنكدر قال: كان من دعاء رسول الله ﷺ: "اللهم أعنِّي على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك".
🧩 متابعات و شواہد: ہشام بن عروہ نے اسے ابن المنکدر سے "مرسل" (نبی ﷺ سے براہ راست) روایت کیا ہے، جس میں دعا کے الفاظ ہیں: "اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما"۔
وتابعهما حماد بن سلمة فيما أخرجه ابن أبي شيبة 10/ 427 من طريقه عن هشام بن عروة عن محمد بن المنكدر مرسلًا.
🧩 متابعات و شواہد: حماد بن سلمہ نے بھی اسے ہشام بن عروہ عن ابن المنکدر سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وخالف ابنُ أبي شيبة الراويين عن جعفر بن عون، فأخرجه في "مصنفه" 10/ 427 عن جعفر بن عون عن هشام بن عروة عن أبيه قال: كان من دعاء النبي ﷺ … الحديث. فجعله من مرسل عروة.
🔍 فنی نکتہ: ابن ابی شیبہ نے اسے ہشام بن عروہ کے واسطے سے ان کے والد عروہ بن زبیر کی "مرسل" روایت قرار دیا ہے۔
وتابع جعفرَ بن عون في ذلك معمرٌ فيما رواه في "جامعه" (19632) عن هشام بن عروة عن أبيه مرسلًا.
🧩 متابعات و شواہد: معمر نے بھی اپنی 'جامع' میں اسے عروہ بن زبیر سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث ابن مسعود عند البزار (2075)، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد ابن مسعودؓ کی حدیث ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وحديث عائشة عند أبي سعيد النقاش في "ثلاثة مجالس من أماليه" (52). وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ کی حدیث بھی اس کی شاہد ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وحديث أبي سعيد الخدري عند الخطيب في "تاريخ بغداد" 6/ 372، وأبي علي الصفار في "فوائده" (5). لكن إسناده واهٍ.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوسعید خدریؓ کی روایت کی سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔
وقد روي هذا الدعاء حديث معاذ بن جبل لكن بتقييده في دُبر الصلاة، وقد سلف برقم (1023)، وإسناده صحيح.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: یہی دعا حضرت معاذ بن جبلؓ کی حدیث (نمبر 1023) میں نماز کے بعد پڑھنے کی قید کے ساتھ مروی ہے اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
(1) تعقبه الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 15/ 410 منكرًا عليه بقوله: لا والله. انتهى، قلنا: وهو كذلك، فهو شديد الضعف، ولولا قول يحيى بن يحيى فيه: مستقيم الحديث، لكان متفقًا على ضعفه، بل قد كذبه، بعضهم، ولخص الحافظ ابن حجر القول فيه في "التقريب" بقوله: متروك، وكان يدلس عن الكذابين، ويقال: إنَّ ابن معين كذبه.
👤 راوی پر جرح: حافظ ابن حجر نے حاکم کے اس راوی (خارجہ) کی توثیق پر سخت رد کرتے ہوئے کہا کہ "خدا کی قسم، ایسا نہیں ہے"۔ وہ سخت ضعیف اور متروک ہے، ابن معین نے اسے کذاب کہا ہے۔