🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. تفسير سبحان الله
سبحان اللہ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1870
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر، قالا: حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدّثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، قال: سمعتُ أبا عُبيدةَ يحدِّث عن أبيه قال: كان النبيُّ ﷺ يُكثِرُ أن يقول:"سُبحانَكَ اللهمَّ وبحمدِك، اللهمَّ اغفِرْ لي"، فلما نزلت: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال:"سُبحانَكَ اللهم، اللهمَّ اغفِرْ لي، إنك أنت التَّوّاب" (1) . هذا إسناد صحيح إن كان أبو عُبيدةَ بن عبد الله بن مسعود سمع من أبيه، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر (سبحان اللہ اللّٰھمَّ وبحمدکَ، اللّٰھُمَّ اغغْفرلِی) اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ، اے اللہ! میری مغفرت فرما۔ پڑھا کرتے تھے، پھر جب (اِذا جآئَ نصرُ اللّٰہِ وَالْفتح) نازل ہوئی تو (اس کے بعد یوں دعا مانگا کرتے تھے): سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ، اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ اے اللہ! تیرے لیے پاکی ہے، اے اللہ! میری مغفرت فرما، بے شک تو وھاب ہے۔ ٭٭ اگر ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ان کے والد سے سماع ثابت ہو تو یہ سند صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1870]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1870 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أنه منقطع، فأبو عبيدة - وهو ابن عبد الله بن مسعود - لم يسمع منه أبيه. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي. وهو في "مسند أحمد" 6/ (3719).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے۔ یہ سند اگرچہ اس کے رجال ثقہ ہیں مگر منقطع ہے، کیونکہ ابو عبیدہ نے اپنے والد (عبد اللہ بن مسعود) سے نہیں سنا۔ ابو اسحاق: یہ عمرو بن عبد اللہ السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد أيضًا 7/ (3891) عن عفان، عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 7/ (3891) میں عفان کے واسطے سے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3683) و (3745) و (4140) و (4352) و (4356) من طرق عن أبي إسحاق السبيعي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے متعدد مقامات پر ابو اسحاق السبیعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق النضر بن شميل عن شعبة برقم (4027).
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث آگے چل کر نضر بن شمیل عن شعبہ کے طریق سے نمبر (4027) پر آئے گی۔
وله شاهد من حديث عائشة عند البخاري (4967) و (4968)، ومسلم (484).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔