🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. أفضل التسبيح والتحميد والتهليل
سب سے افضل تسبیح، تحمید اور تہلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1876
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي عيسى موسى بن عيسى الصَّغير (1) ، حدثني عَوْن بن عبد الله بن عُتْبة، عن أبيه قال: سمعتُ النُّعمان بن بَشِيرٍ يقول: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ مِن جَلال اللهِ مما تَذْكُرونَ، التَّسبيحَ والتَّحميدَ والتَّهليلَ، إنَّهنَّ لَيَتَعَطَّفْنَ حولَ العرش لهنَّ دَوِيٌّ كدَوِيِّ النحل، يُذَكَّرنَ بصاحبِهنَّ، أفلا يُحِبُّ أحدُكم أن يكونَ له عندَ الله من يُذكِّرُه به؟" (2) .
هذا حديث على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بموسى القارئ، وهو ابن عيسى هذا!
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے جلال میں سے وہ تسبیح، تحمید اور تعلیل بھی ہے جس کا تم ذکر کرتے ہو، یہ اللہ کے عرش کے گرد جمع ہو کر جھکی رہتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے کو یاد کرتی ہیں کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کوئی ایسی نشانی موجود رہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو یاد فرماتا رہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے موسیٰ القاری کی روایات نقل کی ہے اور وہ عیسیٰ کا بیٹا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1876]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1876 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا سماه المصنف هنا، وهو وهمٌ منه ﵀، فقد ذهب وهمه إلى الذي احتجَّ به مسلم، وهو موسى بن عيسى القارئ الخياط، وهذا لا يقال له: الصغير، والصواب أنه أبو عيسى موسى بن مسلم الكوفي الطحان المعروف بموسى الصغير، وكأنَّ المصنف قد خلط بينهما فعدهما واحدًا، وقد سلف الحديث من طريق موسى بن مسلم هذا برقم (1862)، ووهم المصنف في تسميته أيضًا هناك، فسماه مسلم بن سالم.
📌 اہم نکتہ: مصنف (امام حاکم) نے یہاں اسے جس نام سے پکارا ہے وہ ان کا وہم ہے؛ ان کا خیال اس راوی کی طرف چلا گیا جس سے امام مسلم احتجاج کرتے ہیں (موسیٰ بن عیسیٰ الخیاط)۔ درست یہ ہے کہ یہ "ابوعیسیٰ موسیٰ بن مسلم الکوفی" ہیں جو "موسیٰ صغیر" کے نام سے معروف ہیں۔ مصنف نے دونوں کو ایک سمجھ کر خلط ملط کر دیا ہے۔
(2) إسناده صحيح. مسدد: هو ابن مسرهد، ويحيى بن سعيد: هو القطان.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ مسدد: یہ ابن مسرہد ہیں، اور یحییٰ بن سعید: یہ القطان ہیں۔
وأخرجه أحمد 30/ (18388). وأخرجه ابن ماجه (3809) عن أبي بشكر بن بكر بن خلف، كلاهما (أحمد وأبو بشر) عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. لكن وقع عندهما: عون بن عبد الله عن أبيه أو عن أخيه، على الشك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 30/ (18388) اور ابن ماجہ (3809) نے روایت کیا ہے۔ دونوں جگہ یحییٰ بن سعید القطان سے یہ سند مروی ہے، لیکن وہاں "عون بن عبداللہ اپنے والد یا اپنے بھائی سے" شک کے ساتھ مروی ہے۔
وسلف الحديث برقم (1862)، وذكرنا هناك أنَّ هذا الشك لا يضر لأنَّ كليهما ثقة.
📝 توضیح: یہ حدیث پہلے (1862) پر گزر چکی ہے، وہاں ہم نے ذکر کیا تھا کہ یہ شک نقصان دہ نہیں کیونکہ (والد اور بھائی) دونوں ثقہ ہیں۔