المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. اسم الله الأعظم الذى إذا دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى
اللہ کے اسمِ اعظم کا بیان کہ جب اس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1877
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثني أبو علي أحمد بن إبراهيم المَوْصِلي، حدثنا خَلَف بن خليفة، عن حفص ابنِ أخي أنسٍ، عن أنس بن مالك قال: كنّا مع النبيِّ ﷺ في حَلْقَةٍ، ورجلٌ قائمٌ يصلِّي، فلما رَكَعَ وسجد، تشهَّد ودعا، فقال في دُعائِه: اللهمَّ إنِّي أسألُك بأنَّ لك الحمدَ، لا إله إلَّا أنتَ، بديعُ السماوات والأرض، يا ذا الجَلال والإكرام، يا حيُّ يا قَيُّوم، فقال النبيُّ ﷺ:"لقد دعا باسمِ الله الأعظم، الذي إذا دُعِيَ به أجاب، وإذا سُئِلَ به أَعطَى" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روي من وجهٍ آخر عن أنس بن مالك:
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روي من وجهٍ آخر عن أنس بن مالك:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک حلقہ میں تھے اور ایک شخص کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجود کر لیے تو تشہد کیا اور دعا مانگی، اس نے اپنی دعا میں کہا: ” اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، بَدِیْعُ السَّمٰوٰت وَالْاَرْضِ، یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ ” اے اللہ: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس طرح کہ تیرے لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، تو زمین و آسمان کو ایجاد کرنے والا ہے، اے ذوالجلال والاکرام یا حی یا قیوم۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ کے اس اسمِ اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے کہ جب بھی اس کے ساتھ دعا مانگی جائے، قبول ہوتی ہے اور جب بھی اس کے ساتھ کوئی دعا مانگی جائے، قبول ہوتی ہے اور جب بھی اس کے ساتھ کچھ مانگا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ یہی حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے انداز میں منقول ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1877]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1877 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل خلف بن خليفة. حفص ابن أخي أنس: قيل: هو حفص بن عبد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن عبيد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن عمر بن عبيد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن محمد بن عبد الله بن أبي طلحة، كما في ترجمته في "تهذيب الكمال" 7/ 80.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور خلف بن خلیفہ کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔ انس کے بھتیجے حفص کے نام میں اختلاف ہے (تہذیب الکمال 7/ 80)؛ کوئی انہیں حفص بن عبداللہ کہتا ہے تو کوئی حفص بن عبیداللہ یا حفص بن عمر۔
وأخرجه أحمد 20/ (12611) و 21/ (13570)، وأبو داود (1495)، والنسائي (1224) و (7654)، وابن حبان (893) من طرق عن خلف بن خليفة، بهذا الإسناد. ووقعت تسمية حفص عند أحمد: حفص بن عمر، وفي الموضع الثاني عند النسائي: حفص بن عبد الله. وقال ابن حبان بإثره: حفص هذا: هو حفص بن عبد الله بن أبي طلحة أخو إسحاق ابن أخي أنس لأمه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (1495)، نسائی اور ابن حبان (893) نے خلف بن خلیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابن حبان نے وضاحت کی ہے کہ یہ حفص بن عبداللہ بن ابی طلحہ ہیں جو اسحاق کے مادری بھائی ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (14205)، وابن ماجه (3858) من طريق أبي خزيمة، عن أنس بن سيرين، عن أنس بن مالك. وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي خزيمة - وهو يوسف بن ميمون الصباغ - فقد صرَّح وكيع باسمه عند ابن حبان في "المجروحين" 3/ 133 فقال: حدثنا يوسف أبو خزيمة عن أنس بن سيرين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 19/ (14205) اور ابن ماجہ (3858) نے ابوزخیمہ عن انس بن سیرین کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 علّت: یہ سند ابوزخیمہ (یوسف بن میمون الصباغ) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه الترمذي (3544) من طريق سعيد بن زربي، عن عاصم الأحول وثابت، عن أنس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3544) نے سعید بن زربی عن عاصم الاحول و ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے۔
قال الترمذي: هذا حديث غريب من هذا الوجه. قلنا: وسعيد بن زربي هذا ضعيف.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے اس رخ سے "غریب" کہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ سعید بن زربی ضعیف راوی ہے۔