🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. فضل الاستغفار
استغفار کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيْرَفي، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن أبي سِنَان، عن أبي الأحْوَص، عن ابن مسعودٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن قال: أستغفرُ الله الذي لا إله إلَّا هو الحيُّ القَيُّومُ وأتوبُ إليه، ثلاثًا، غُفِرت له ذُنوبُه وإن كان فارًّا من الزَّحْف" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تین مرتبہ یہ دعا مانگ لے، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ جنگ سے بھاگنے والا کیوں نہ ہو (وہ دعا یہ ہے): استغفر اللّٰہ العظیم الذی لا الٰہ الّا ھو الحیّ القیّوم، واتوب اِلیہ ثلاثا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1905]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1905 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محمد بن سابق، وقد توبع إسرائيل: هو ابن يونس، وأبو سنان: هو ضرار بن مرة، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجشمي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور محمد بن سابق کی وجہ سے یہ سند قوی ہے جن کی متابعت موجود ہے۔ ابوسنان: یہ ضرار بن مرہ ہیں، اور ابوالاحوص: یہ عوف بن مالک الجشمی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الدعوات" (161) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الدعوات" (161) میں حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (2582) من طريق محمد بن يوسف الفريابي عن إسرائيل.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ مصنف کے ہاں رقم (2582) پر محمد بن یوسف الفریابی عن اسرائیل کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/ 300 عن ابن نمير، عن إسرائيل، به. لكنه وقفه على ابن مسعود، ومثل هذا لا يضر ما دام ثبت مرفوعًا من غير هذه الطريق الواحدة.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ (10/ 300) نے اسے ابن مسعود پر "موقوف" کیا ہے، مگر مرفوع ثابت ہونے کی وجہ سے یہ مضر نہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8541) من طريق حُديج بن معاوية، عن أبي إسحاق السبيعي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابن مسعود قوله، موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعفٍ في حُديج بن معاوية.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: طبرانی (8541) نے اسے حدیج بن معاویہ کے طریق سے موقوفاً روایت کیا ہے، مگر یہ سند حدیج کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔