المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
50. بخ بخ بخمس ما أثقلهن فى الميزان
پانچ اعمال کی فضیلت کہ وہ میزان میں بہت بھاری ہیں۔
حدیث نمبر: 1906
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سليمان بن أحمد الواسطي، حدثنا الوليد بن مُسلم، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني أبو سَلّام الأسودُ، حدثني أبو سلمى راعي رسولِ الله ﷺ ولقيتُه في مسجد الكوفة - قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"بخٍ بخٍ بخمسٍ ما أثقلَهُنَّ في الميزان: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إلهَ إِلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، والولدُ الصالحُ يُتوفَّى للمسلمِ فيَحتسبُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
ابوسلام اسود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے، سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد کے دروازے کے پاس مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوشی کے عالم میں ارشاد فرمایا: ان پانچ کلمات پر خوش ہو جاؤ کہ میزان پر ان سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہے (وہ 5 کلمات یہ ہیں): ” سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الٰہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر “ اور کسی مسلمان کا نیک بچہ فوت ہو جائے تو وہ اس (کی بخشش کے لیے کافی ہے۔ ٭٭ یہ حدث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1906]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1906 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل سليمان بن أحمد الواسطي، وقد تابعه غير واحدٍ عن الوليد بن مسلم.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ یہ سند سلیمان بن احمد الواسطی کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر ولید بن مسلم سے دیگر راویوں نے اس کی متابعت کی ہے۔
فقد أخرجه النسائي (9923)، وابن حبان (833) من طرق عن الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء بن زَبْر وعبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن أبي سلَّام، عن أبي سلمى. فقرنُوا بابن جابر عبدَ الله بنَ العلاء بن زَبْر، وهو ثقة أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی اور ابن حبان نے ولید بن مسلم کے طریق سے "ابوسلمیٰ" کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15662) و 29/ (18076) من طريق أبان بن يزيد العطّار، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي سلّام، عن مولى رسول الله ﷺ. وهذا إسناد صحيح، والمولى المبهم هو الراعي أبو سلمى المبيَّن في رواية ابن جابر وابن زَبْر.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام احمد نے یحییٰ بن ابی کثیر عن زید بن سلام کی سند سے روایت کیا ہے، یہ سند صحیح ہے اور اس میں مبہم "مولیٰ" سے مراد چرواہے ابوسلمیٰ ہی ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23100) من طريق هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي ¤ ¤ سلّام، أنَّ رجلًا حدَّثه، أنه سمع النبي ﷺ. وقد كان يحيى ربما حدَّث من صحيفةٍ لأبي سلَّام كانت عنده، وإلّا فقد سمعَ هذا الحديث من زيد بن سلّام عن جده أبي سلّام كما في رواية أبان العطّار السابقة، فلا اختلاف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 38/ (23100) نے ہشام الدستوائی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ بسا اوقات ابوسلام کے صحیفے سے روایت کرتے تھے، لہذا کوئی اختلاف نہیں ہے۔
وقوله: "بَخ بَخ" كلمة تُقال عند المدح والرضا بالشيء، وتُكرّر للمبالغة، وهي مبنية على السكون، فإن وصلتَ جَرَرْتَ ونَوَّنتَ - يعني كما هو الحال هنا - وربما شُدِّدت الخاء.
📝 توضیح: "بخ بخ" یہ کلمہ تعریف اور پسندیدگی کے موقع پر بولا جاتا ہے، مبالغے کے لیے اسے دہرایا بھی جاتا ہے۔ اس کی خاء ساکن ہوتی ہے اور کبھی مشدد بھی پڑھی جاتی ہے۔