🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بيان الباقيات الصالحات
باقیاتِ صالحات کی وضاحت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1910
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي وأبو محمد عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن أيوب البَجَلي، حدثنا أحمد بن عيسى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهَيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"استكثِروا من الباقِياتِ الصالحاتِ" قيل: وما هُنّ يا رسولَ الله؟ قال:"المِلّةُ" قيل: وما هي؟ قال:"التكبيرُ والتهليلُ والتسبيحُ والتحميدُ، ولا حولَ ولا قوةَ إلَّا بالله" (2) . هذا أصح إسناد للمِصريِّين (1) ، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باقیات الصالحات زیادہ سے زیادہ جمع کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ (باقیات الصالحات) کیا ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ملت کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لا حول ولا قوّۃ الا باللہ۔ ٭٭ یہ مصریوں کی سب سے زیادہ صحیح السند ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1910]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1910 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف رواية أبي السَّمْح - وهو درّاج بن سمعان - عن أبي الهيثم - وهو سليمان بن عمرو العُتْواريّ - وللخبر شواهد أوردها الحافظ العلائي في "جزء تفسير الباقيات الصالحات" يصح بها كما قال. ¤ ¤ وأخرجه ابن حبان (840) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے۔ اگرچہ یہ سند ابوالسمح (دراج بن سمعان) کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر حافظ علائی کے بقول دیگر شواہد سے یہ صحیح ہو جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11713) من طريق ابن لهيعة، عن درّاج أبي السَّمْح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 18/ (11713) نے ابن لہیعہ عن دراج ابوالسمح کی سند سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديثُ أبي هريرة الآتي برقم (2008)، ورجاله ثقات لكنه معَلٌّ.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت ابوہریرہ کی حدیث (2008) ہے، جس کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں ایک فنی "علت" (عیب) ہے۔
وحديث النعمان بن بشير عند أحمد 30/ (18353) وغيره، وفيه رجل مبهم، ولولاه لكان إسناده على شرط الصحيح كما قال الحافظُ في "الأمالي المطلقة" ص 222.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت نعمان بن بشیر کی روایت (احمد: 18353) میں ایک مبہم راوی ہے، ورنہ یہ صحیح بخاری و مسلم کی شرط پر ہوتی۔
وروي من قول عثمان بن عفان فيما أخرجه أحمد 1/ (513)، وإسناده حسن، ومثله لا يُقال من قِبَل الرأي والاجتهاد.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حضرت عثمان بن عفان کا قول (احمد: 513) حسن سند سے مروی ہے، اور یہ ایسی بات ہے جو محض رائے سے نہیں کہی جا سکتی (حکماً مرفوع ہے)۔
ومن قول ابن عباس في أكثر الروايات عنه عند الطبري في "تفسيره" 15/ 254، وهو أصح ما روي عنه كما قال العلائي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حضرت ابن عباس سے مروی اکثر روایات میں یہ ان کا اپنا قول (موقوف) ہے، اور علائی کے بقول یہی زیادہ صحیح ہے۔
ومن قول ابن عُمر عند الطبري أيضًا 15/ 255، ورجاله ثقات.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: طبری (15/ 255) نے اسے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
وأسنده الطبريُّ أيضًا عن عطاء بن أبي رباح وسعيد بن المسيب وسالم ومجاهد ومحمد بن كعب القرظي والحسن وقتادة.
📖 حوالہ / مصدر: امام طبری نے اسے عطاء، سعید بن مسیب، سالم، مجاہد، محمد بن کعب، حسن اور قتادہ سے بھی (بطور قول) روایت کیا ہے۔
(1) كذا قال المصنّف هنا، وهو خلاف قوله في "معرفة علوم الحديث" ص 56 حيث قال: أثبت إسناد المصريين: الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر الجُهني. وهذا أصح من قوله هنا، لما هو معلوم من كلام كثير من الأئمة في ضعف رواية درّاج أبي السَّمْح عن أبي الهيثم، وما قاله المصنف هنا هو رأي يحيى بن معين، فقد أسنده عنه هو في مصنفه هذا بإثر الحديث الآتي برقم (3636).
🔍 فنی نکتہ: مصنف (حاکم) نے یہاں دراج کی روایت کو سب سے مضبوط کہا ہے، جبکہ اپنی دوسری کتاب میں وہ لیث بن سعد کی سند کو اصح کہہ چکے ہیں۔ محدثین کے نزدیک دراج کی ابوالہیثم سے روایت ضعیف مانی جاتی ہے۔