المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. دعاء وقت الخروج من البيت
گھر سے نکلتے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 1929
أخبرنا أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا محمد بن نصر بن منصور الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن عبد الله بن حُسين بن عطاء بن يَسار، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا خرج من بيتِه يقول:"باسمِ الله، لا حَولَ ولا قُوَّة إلَّا بالله، التُّكْلانُ على الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو یہ دعا مانگتے: ” بسم اللہ، لا حول ولا قوّہ الّا باللہ، التُّکلانُ علی اللہ ” کوئی طاقت اور مجال اللہ کے سوا نہیں ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1929]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1929 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن حُسين بن عطاء بن يسار، وقد وهم فيه كما نبّه عليه أبو زرعة الرازي في سؤالات البرذعي له (453) حيث قال: ضعيفٌ، حدَّث عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ: "والتكلان على الله"، وإنما هو عن سُهيل، عن أبيه، عن السَّلُولي، عن كعب. قلنا: السَّلُولي هو عبد الله بن ضَمْرة. وله طريق أخرى عن أبي هريرة لكنها ضعيفة أيضًا، فلا يُفرح بها، غير أنَّ لهذا الخبر شواهد يتحسّن بها في أقل أحواله، ولذلك حسَّنَه الحافظ في "نتائج الأفكار" 1/ 166.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "حسن" ہے۔ اگرچہ اس کی یہ سند عبداللہ بن حسین کے ضعف کی وجہ سے کمزور ہے اور ابوزرعہ رازی کے بقول اسے حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوعاً بیان کرنا وہم ہے (اصل میں یہ کعب الاحبار کا قول ہے)، مگر دیگر شواہد اسے تقویت دیتے ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (3885) عن يعقوب بن حميد بن كاسب، عن حاتم بن إسماعيل، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه ابن ماجه أيضًا (3886) من طريق هارون بن هارون القرشي التيمي، عن الأعرج، عن أبي هريرة. وهارون هذا ضعيف باتفاق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے یعقوب بن حمید کے طریق سے روایت کیا ہے، نیز ایک دوسری سند سے بھی روایت کیا ہے جس میں ہارون بن ہارون "بالاتفاق ضعیف" ہے۔
ولم نقف عليه من رواية سُهيل، عن أبيه، عن السَّلُولي، عن كعب قوله، لكن من رواية مجاهد، عن عبد الله بن ضمرة السَّلولي، عن كعب قوله، عند معمر في "جامعه" (19827)، وابن أبي شيبة في "مصنفه" 10/ 212، وابن أبي الدنيا في "التوكل على الله" (21)، وأبي نعيم في "الحلية" 5/ 389، وعبد الغني المقدسي في "الترغيب في الدعاء" (116). لكن سقط اسم السلولي من مطبوع "جامع معمر".
🔍 فنی نکتہ: یہ روایت کعب الاحبار کے قول (موقوف) کے طور پر معمر، ابن ابی شیبہ اور ابونعیم کے ہاں مختلف اسانید سے موجود ہے۔
ويشهد له مرفوعًا حديث أنس بن مالك عند أبي داود (5095)، والترمذي (3426)، والنسائي (9837)، وابن حبان (822) من طريق ابن جريج، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس. وقال الترمذي: حسن غريب لا نعرفه إلّا من هذا الوجه؛ كذلك جاء في رواية أبي العباس المحبوبي عنه، وأما في رواية أبي حامد التاجر وأبي ذر الترمذي عنه فقال: حسن صحيح غريب. كذلك جاء في نسخة خطيّة منه عندنا بروايتهما. وقد أعلَّ البخاري هذا الحديث فيما نقله عنه الترمذي في "علله الكبير" (673) بقوله: لا أعرف لابن جريج عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة غير هذا الحديث، ولا أعرف له سماعًا منه. قلنا: وجزم الدارقطني في "العلل" (2349) بأنَّ ابن جريج لم يسمعه من إسحاق، محتجًّا برواية عبد الله بن عبد العزيز بن أبي روّاد عن ابن جريج - وهو أثبت الناس فيه - فقال: حُدِّثت عن إسحاق.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد حضرت انسؓ کی روایت ہے (ابوداؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ)۔ امام بخاری اور دارقطنی نے اس میں ابن جریج کے سماع پر کلام کیا ہے، مگر دیگر قرائن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قلنا: لقاؤه له ممكن جدًّا، فقد أدرك ابن جُريج من حياة إسحاق ما يقارب الخمسين عامًا، على أنه وقع تصريحه منه بالسماع في رواية الضياء المقدسي في "المختارة" 4/ (1540).
🔍 فنی نکتہ: ابن جریج کی اسحاق سے ملاقات ممکن تھی اور ضیاء المقدسی کی روایت میں سماع کی صراحت بھی موجود ہے۔
كما يشهد له حديث عثمان بن عفان عند أحمد 1/ (471)، وفي إسناده رجلٌ مبهم يرويه عن عثمان، وقد جاء في بعض مصادر التخريج تقييده بأنه ابنٌ لعثمان بن عفان، وبقية رجاله لا بأس بهم، فيصلحُ مثلُه في الشواهد.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عثمان بن عفانؓ کی روایت بھی شاہد کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے، جس کے باقی رجال ثقہ ہیں مگر ایک راوی مبہم ہے۔