🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

63. دُعَاءُ وَقْتِ الْخُرُوجِ مِنَ الْبَيْتِ
گھر سے نکلتے وقت کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1928
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً وقراءةً، حدثنا هارون بن سُليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن الشَّعبي، عن أمّ سلمة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا خرجَ من بيتِه قال:"باسم الله، ربِّ أعوذُ بك أن أَزِلَّ أو أضِلَّ، أو أَظلِمَ أو أُظلَمَ، أو أَجهَلَ أو يُجهَلَ علَيَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وربما توهَّم مُتوهِّم أنَّ الشعبيّ لم يسمع من أم سلمة، وليس كذلك، فإنه دَخَلَ على عائشة وأم سلمة جميعًا، ثم أكثرَ الروايةَ عنهما جميعًا.
سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلا کرتے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: بسم اللہ، رب اعوذبک ان ازل، او اضل، او اظلم، او اظلم، او اجھل، او یُجھل علیَّ۔ اللہ کے نام سے شروع، اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا میں گمراہ ہو جاؤں یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے یا میں کسی کو جاہل قرار دوں یا مجھے جاہل قرار دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور بسا اوقات کسی کو یہ غلطی لگ جاتی ہے کہ شعبی نے اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ شعبی کی اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے دونوں سے کثیر روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1928]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1929
أخبرنا أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا محمد بن نصر بن منصور الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن عبد الله بن حُسين بن عطاء بن يَسار، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا خرج من بيتِه يقول:"باسمِ الله، لا حَولَ ولا قُوَّة إلَّا بالله، التُّكْلانُ على الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو یہ دعا مانگتے: بسم اللہ، لا حول ولا قوّہ الّا باللہ، التُّکلانُ علی اللہ کوئی طاقت اور مجال اللہ کے سوا نہیں ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1929]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں