المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. دعاء وقت الخروج من البيت
گھر سے نکلتے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 1928
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً وقراءةً، حدثنا هارون بن سُليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن الشَّعبي، عن أمّ سلمة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا خرجَ من بيتِه قال:"باسم الله، ربِّ أعوذُ بك أن أَزِلَّ أو أضِلَّ، أو أَظلِمَ أو أُظلَمَ، أو أَجهَلَ أو يُجهَلَ علَيَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وربما توهَّم مُتوهِّم أنَّ الشعبيّ لم يسمع من أم سلمة، وليس كذلك، فإنه دَخَلَ على عائشة وأم سلمة جميعًا، ثم أكثرَ الروايةَ عنهما جميعًا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وربما توهَّم مُتوهِّم أنَّ الشعبيّ لم يسمع من أم سلمة، وليس كذلك، فإنه دَخَلَ على عائشة وأم سلمة جميعًا، ثم أكثرَ الروايةَ عنهما جميعًا.
سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلا کرتے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ” بسم اللہ، رب اعوذبک ان ازل، او اضل، او اظلم، او اظلم، او اجھل، او یُجھل علیَّ۔ “ ” اللہ کے نام سے شروع، اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا میں گمراہ ہو جاؤں یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے یا میں کسی کو جاہل قرار دوں یا مجھے جاہل قرار دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور بسا اوقات کسی کو یہ غلطی لگ جاتی ہے کہ شعبی نے اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ شعبی کی اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے دونوں سے کثیر روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1928]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1928 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، ومنصور: هو ابن المعتمر، والشعبي: هو عامر بن شَراحيل، وقد أدرك الشعبيُّ أمَّ سلمة بيقين، كما أوضحناه في "سنن ابن ماجه" بتحقيقنا (3884)، وبه جَزَمَ المصنّف هنا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ سفیان ثوری، منصور بن المعتمر اور عامر بن شراحیل الشعبی سب ثقہ ہیں۔ شعبی کا حضرت ام سلمہؓ سے سماع (ملاقات) یقینی ہے جیسا کہ ہم نے سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں واضح کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26704)، والنسائي (7870) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (26616)، والترمذي (3427)، والنسائي (9835) من طريق وكيع بن الجراح، عن سفيان الثوري، به. وزاد في أوله: "باسم الله توكلتُ على الله". وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. ¤ ¤ وأخرجه أحمد (26729)، وأبو داود (5094)، وابن ماجه (3884)، والنسائي (7868) (7869) (9834) من طرق عن منصور بن المعتمر، به. ولم يذكر بعضُهم في روايته أولَ الحديث: "باسم الله".
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اسے امام احمد، ترمذی اور نسائی نے وکیع کے طریق سے روایت کیا ہے جس کے شروع میں "باسم الله توكلتُ على الله" کے الفاظ ہیں۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه النسائي (9833) من طريق مؤمَّل بن إسماعيل، عن شعبة، عن عاصم، عن الشعبي، عن أم سلمة. وقال بإثره: هذا خطأ: عاصم عن الشعبي، والصواب: شعبة عن منصور، ومؤمَّل بن إسماعيل كثير الخطأ، خالفه بهز بن أسد، رواه عن شعبة عن منصور عن الشعبي.
⚠️ سندی اختلاف: امام نسائی نے مؤمل بن اسماعیل کی روایت کو "خطا" قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے سند میں عاصم کا ذکر کیا، جبکہ صحیح شعبہ عن منصور ہے۔ مؤمل بن اسماعیل کثیر الخطا راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (9836) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان الثوري، عن زُبيد الياميّ، عن الشعبي مرسلًا، ولم يذكر: "باسم الله". وقال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 160 بعد أن ذكر الاختلاف بين منصور وزُبيد في وصل الحديث وإرساله: هذه العلة غير قادحة، فإنَّ منصورًا ثقة حافظ، ولم يُختلَف عليه فيه.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر کے بقول منصور اور زبید کے درمیان اس روایت کو موصول یا مرسل بیان کرنے کا اختلاف مضر نہیں ہے، کیونکہ منصور ثقہ اور حافظ ہیں اور ان کی روایت محفوظ ہے۔