🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. التعوذ من جار السوء فى دار المقامة
ہمیشہ کی رہائش میں برے پڑوسی سے پناہ کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1972
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إبراهيم بن يوسف الرازي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمَر، عن ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يقولُ في دُعائه:"اللهمَّ إني أعوذ بك من جارِ السُّوء في دار المُقامةِ، فإنَّ جارَ الباديةِ يَتحوَّلُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابعَه عبد الرحمن بن إسحاق عن المَقبُري:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہا کرتے تھے: اللّٰھمّ انّی اعوذبک من جار السوء فی دار المقامۃ، فانّ جار البادیۃ یتحوّل۔ اے اللہ! میں وطن کے برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ سفر کے پڑوسی تو بدل جایا کرتے ہیں ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کو مقبری سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن اسحاق نے ابن عجلان کی متابعت کی ہے (ان کی روایت درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1972]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1972 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح بلفظ: "تعوّذوا بالله من جار السوء … " لا أنَّ النبي ﷺ كان يقوله في دعائه، وهذا إسناد قوي من أجل أبي خالد الأحمر - وهو سليمان بن حيان - وابن عجلان - واسمه محمد - فهما صدوقان لا بأس بهما، وقد روى هذا الحديثَ غيرُ أبي خالد الأحمر بلفظ: "تعوذوا بالله من جار السوء"، وهو أصح، فقد رواه بهذا اللفظ أيضًا عبد الرحمن بن إسحاق المدني عن سعيد بن أبي سعيد - وهو المقبري - كما سيأتي عند المصنف بعده، وعبد الرحمن بن إسحاق صدوق حسن الحديث، فالحديث صحيح بهذا اللفظ.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہے کہ "تم پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو"، نہ کہ یہ نبی ﷺ کی اپنی دعا تھی۔ اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1033) من طريق عبد الله بن سعيد الأشجّ، عن أبي خالد الأحمر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابن حبان نے اسے عبداللہ بن سعید الاشج کے طریق سے ابوضالد الاحمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي في "المجتبى" (5502) عن عمرو بن علي الفلاس، عن يحيى بن سعيد القطان، عن محمد بن عجلان، به بلفظ: "تعوّذوا بالله من جار السوء … ". ¤ ¤ وأخرجه النسائي أيضًا في "الكبرى" (7886) عن عمرو بن علي الفلاس كذلك، لكنه قال: عن صفوان بن عيسى، عن محمد بن عجلان، به. كلفظ "المجتبى" إلّا أنه ذكر صفوان بن عيسى بدل يحيى بن سعيد.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے دو مقامات پر روایت کیا ہے، جس میں "تعوّذوا" (تم پناہ مانگو) کے الفاظ مروی ہیں۔
وذكر المزيُّ في "تحفة الأشراف" 9/ (13054) بعد أن صدّر تخريجه من النسائي بذكر يحيى بن سعيد القطان، أنه وقع في بعض النسخ: عن صفوان بن عيسى.
🔍 فنی نکتہ: امام مزی نے اشارہ کیا ہے کہ بعض نسخوں میں یحییٰ القطان کی جگہ صفوان بن عیسیٰ کا نام درج ہے۔
وهو عند البزار (8496) عن عمرو بن علي الفلّاس كذلك، عن صفوان بن عيسى، عن ابن عجلان.
📖 حوالہ / مصدر: امام بزار نے بھی اسے صفوان بن عیسیٰ کے طریق سے ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔
وعند البيهقي في "شعب الإيمان" (9106)، ومن طريقه أخرجه أبو القاسم الرافعي في "التدوين في أخبار قزوين" 2/ 352 من طريق نصر بن علي الجهضمي ومحمد بن أبي بكر المقدَّمي، عن صفوان بن عيسى، عن ابن عجلان.
📖 حوالہ / مصدر: امام بیہقی اور رافعی نے بھی اسے اسی سند (صفوان عن ابن عجلان) سے روایت کیا ہے۔
فالظاهر أنَّ ذكر صفوان بن عيسى في إسناد النسائي هو الصحيح، والله تعالى أعلم.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: ظاہری طور پر نسائی کی سند میں "صفوان بن عیسیٰ" کا ذکر ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔
ولفظ صفوان عندهم جميعًا كلفظ النسائي: "تعوَّذوا بالله من جار السوء … " وكأنَّ أبا خالد الأحمر وهم في لفظه فجعله من دعائه ﷺ، وإنما هو بلفظ الأمر بالدعاء به كما وقع في رواية صفوان بن عيسى وفاقًا لرواية عبد الرحمن بن إسحاق المدني التالية عن سعيد المقبري، وإنما دخل الوهم على أبي خالد الأحمر - فيما يغلب على ظننا - أنَّ أبا خالد روى أيضًا عن محمد بن عجلان عن سعيد المقبري قال: كان من دعاء داود النبي ﷺ: اللهم إني أعوذ بك من جار السوء؛ هكذا رواه المقبريُّ مقطوعًا من قولِه. أخرجه هناد بن السَّريّ في "الزهد" (1038)، وأبو سعيد الأشجّ في "حديثه" (69).
🔍 فنی نکتہ: ابوضالد الاحمر کو وہم ہوا ہے، انہوں نے اسے نبی ﷺ کی دعا بنا دیا، جبکہ صحیح یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس دعا کا حکم دیا تھا۔ یہ دعا دراصل حضرت داؤد علیہ السلام کی مروی دعاؤں میں سے ہے۔
ورواه أيضًا سعيد بن أبي هلال مقطوعًا من قوله: أنَّ داود النبي ﷺ كان يقول: اللهم إني أعوذ بك من جار السوء … أخرجه عنه الخطابي في "العُزلة" ص 38. فظهر بذلك أنَّ أبا خالد الأحمر قد دخل له حديث في حديث، والله أعلم.
⚠️ سندی اختلاف: سعید بن ابی ہلال کی روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرت داؤدؑ کا قول ہے، جس سے ابوضالد الاحمر کے وہم کی تائید ہوتی ہے۔