المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
91. التَّعَوُّذُ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ
ہمیشہ کی رہائش میں برے پڑوسی سے پناہ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1972
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إبراهيم بن يوسف الرازي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمَر، عن ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يقولُ في دُعائه:"اللهمَّ إني أعوذ بك من جارِ السُّوء في دار المُقامةِ، فإنَّ جارَ الباديةِ يَتحوَّلُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابعَه عبد الرحمن بن إسحاق عن المَقبُري:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابعَه عبد الرحمن بن إسحاق عن المَقبُري:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہا کرتے تھے: ” اللّٰھمّ انّی اعوذبک من جار السوء فی دار المقامۃ، فانّ جار البادیۃ یتحوّل۔ ” اے اللہ! میں وطن کے برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ سفر کے پڑوسی تو بدل جایا کرتے ہیں “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کو مقبری سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن اسحاق نے ابن عجلان کی متابعت کی ہے (ان کی روایت درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1972]
حدیث نمبر: 1973
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا عفّان، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ يقول:"استَعيِذوا باللهِ من شَرّ جار (1) المُقام، فإن جارَ المسافر إذا شاء أن يُزايِلَ زايَل" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: وطن کے بُرے پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر کے پڑوسی سے اگر جان چھڑانا چاہیں تو چھوٹ سکتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1973]