🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. التعوذ من جار السوء فى دار المقامة
ہمیشہ کی رہائش میں برے پڑوسی سے پناہ کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1973
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا عفّان، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ يقول:"استَعيِذوا باللهِ من شَرّ جار (1) المُقام، فإن جارَ المسافر إذا شاء أن يُزايِلَ زايَل" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: وطن کے بُرے پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر کے پڑوسی سے اگر جان چھڑانا چاہیں تو چھوٹ سکتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1973]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1973 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في نسخنا الخطية: دار، والمثبت من نسخة بهامش (ز) ومن "تلخيص الذهبي"، وهو ¤ ¤ الصواب الموافق لرواية أحمد بن حنبل وغيره عن عفان.
📝 توضیح: نسخوں میں "دار" (گھر) لکھا تھا، مگر صحیح لفظ "جار" (پڑوسی) ہے جیسا کہ امام احمد کی روایت اور ذہبی کی تلخیص میں ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن إسحاق - وهو ابن عبد الله المدني - وقد توبع كما في الحديث السابق. عفان: هو ابن مسلم، ووُهَيب: هو ابن خالد المدني.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور عبدالرحمن بن اسحاق کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے جس کی متابعت پچھلی حدیث سے ہوتی ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8553) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عفان بن مسلم کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: زايَل، أي: فارَقَ.
📚 لغوی تشریح: "زایل" کا مطلب ہے 'جدا ہو جانا' یا 'الگ ہو جانا'۔