🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. رفع اليدين عند الدعاء
دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1982
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرني يونس بن سُلَيم، قال: أملَى عليَّ يونسُ بن يزيد الأَيْلي: عن ابن شِهاب، عن عُروة بن الزُّبير، عن عبد الرحمن بن عَبْدٍ القاريِّ، قال: سمعتُ عمر بن الخطاب يقول: كان إذا أُنزل على رسولِ الله ﷺ الوحيُ، يُسمَع عند وجهه كدَوِيّ النحْل (1) ، فسكَتْنا ساعةً، فاستقبلَ القِبلَة ورفَع يديه، فقال:"اللهمّ زِدْنا ولا تَنقُصنا وأكرِمْنا ولا تُهِنّا، وأعطِنا ولا تَحرِمْنا، وآثِرْنا ولا تُؤثِر علينا، وارْضَ عنا وأَرضِنا، ثم قال:"لقد أُنزل عليَّ عشرُ آياتٍ، من أقامَهنَّ دخَل الجنةَ"، ثم قرأ: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾ (2) . قال عبد الرزاق: ويونس بن سُلَيم هذا، كان عمُّه واليًا على أَيلَة، قال: أرسلَني عمّي إلى يونس بن يزيد حتى أملَى عليَّ أحاديثَ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوا کرتی تھی تو ہمیں آپ کے چہرہ اطہر سے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی آواز سنائی دیا کرتی تھی۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کے لیے ہم سے گفتگو بند کر دی (جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو) قبلہ رو ہو کر ہاتھ بلند کیے اور یوں دعا مانگی: اے اللہ! ہمیں زیادہ کر اور کم نہ کر، ہمیں عزت دے، ذلت نہ دے، اور ہمیں عطا فرما اور ہمیں محروم نہ رکھ اور ہمیں غلبہ عطا فرما اور ہمیں مغلوب نہ کر اور ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں راضی کر ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اوپر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو شخص ان کو پابندی سے پڑھتا رہے گا۔ (ان پر عمل کرے گا) وہ جنت میں داخل ہو گا پھر آپ نے قد افلح المؤمنون سے دس آیتیں پڑھیں۔ ٭٭ عبدالرزاق فرماتے ہیں: اس یونس بن سلیم کے چچا گورنر تھے (یونس) فرماتے ہیں: انہوں نے مجھے یونس بن یزید کے پاس بھیجا تاکہ وہ مجھے احادیث کی املاء کروا دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1982]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1982 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زاد بعدها في المطبوع: فأنزل عليه يومًا، وليست في شيء من أُصولنا الخطيّة، ولا في رواية البيهقي لهذا الحديث في "الدعوات" (240) إذ رواه عن المصنف بإسناديه اللذين هنا، وإن كانت ثابتةً في بعض مصادر تخريج الحديث.
📝 توضیح: مطبوعہ نسخے میں "فأنزل عليه يوماً" کے الفاظ زائد ہیں جو ہمارے کسی قلمی نسخے میں نہیں، نہ ہی امام بیہقی کی "الدعوات" (240) میں ہیں، حالانکہ انہوں نے اسے مصنف کی اسی سند سے روایت کیا ہے، اگرچہ یہ الفاظ بعض دیگر مصادر میں ثابت ہیں۔
(2) إسناده ضعيف لجهالة يونس بن سُلَيم - وهو الصَّنْعاني - بل قال عبد الرزاق نفسُه: أظنه لا شيء، وقال النسائي عن حديثه هذا: منكر، ومع ذلك ذكره ابن حبان في "الثقات"، وحسَّن حديثَه هذا البغوي في "شرح السنة" (1376)، وصحَّحه الضياء المقدسي في "المختارة" 1/ (234)!!
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند یونس بن سلیم الصنعانی کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے؛ 🔍 فنی نکتہ: بلکہ خود امام عبد الرزاق نے کہا: میرا خیال ہے یہ کچھ بھی نہیں، امام نسائی نے اسے "منکر" کہا۔ 📌 اہم نکتہ: اس کے باوجود ابن حبان نے اسے "الثقات" میں ذکر کیا، بغوی نے اسے "حسن" اور ضیاء مقدسی نے "صحیح" قرار دیا ہے!!
وهو في "مسند أحمد" 1/ (223).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (1/ 223) میں بھی موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي بإثر الحديث (3173) عن محمد بن أبان البَلْخي، عن عبد الرزاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے حدیث (3173) کے فوراً بعد محمد بن ابان البلخی عن عبد الرزاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي أيضًا (3173) عن يحيى بن موسى البَلْخي وعبد بن حُميد وغير واحدٍ، عن عبد الرزاق، عن يونس بن سُليم، عن الزهري، به. فلم يذكروا فيه يونس بن يزيد الأيلي، وذكر الترمذي أنَّ ذكر يونس بن يزيد الأيلي فيه أصحُّ، قال: سمعت إسحاق بن منصور يقول: روى أحمد بن حنبل وعلي بن المديني وإسحاق بن إبراهيم (يعني ابن راهويه وستأتي روايته عند المصنف برقم: 3521) عن عبد الرزاق عن يونس بن سُليم عن يونس بن يزيد عن الزهري، الحديث. ومن سمع من عبد الرزاق قديمًا فإنهم إنما يذكرون فيه يونس بن يزيد، وبعضهم لا يذكر فيه عن يونس بن يزيد، ومن ذكر فيه يونس بن يزيد فهو أصحُّ.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے (3173) میں یحییٰ بن موسیٰ اور عبد بن حمید وغیرہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے لیکن اس میں "یونس بن یزید الایلی" کا ذکر نہیں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یونس بن یزید الایلی کا ذکر کرنا ہی زیادہ صحیح ہے، انہوں نے اسحاق بن منصور سے سنا کہ امام احمد، ابن المدینی اور ابن راہویہ کی روایات میں یونس بن یزید کا ذکر موجود ہے۔ 📚 مجموعی اصول: جنہوں نے قدیم زمانے میں عبد الرزاق سے سنا وہ یونس بن یزید کا ذکر کرتے ہیں، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔