🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
115. الدعاء العظيم النفع
بہت زیادہ نفع والی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2021
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن عيسى الطَّرَسُوسى. وحدثنا أحمد بن سلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني؛ قالوا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أحمد بن محمد بن داود الصَّنْعاني، أخبرني أفلَحُ بن كثير، حدثنا ابنُ جُريج، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جدِّه، قال: نزل جبريلُ ﵇ إلى النبي ﷺ بهذا الدعاء من السماء، وإنَّ جبريل جاء إلى رسول الله ﷺ في أحسنِ صُورة لم يَنزلْ في مثلِها قطُّ ضاحكًا مُستبشرًا، فقال: السلام عليك يا محمدُ، قال:"وعليك السلامُ يا جبريلُ"، قال: إِنَّ الله بعثني إليك بهديةٍ، قال:"وما تلك الهديةُ يا جبريلُ؟" قال: كلماتٌ من كُنوز العرشِ، أكرمَك اللهُ بهنّ، قال: وما هنّ يا جبريلُ؟ قال: فقال جبريلُ: قُل: يا مَن أظهرَ الجَميلَ، وسَتَر القَبيحَ، يا مَن لا يُؤاخِذُ بالجَرِيرةِ، ولا يَهتِكُ السِّتْر، يا عظيمَ العَفْو، يا حَسَنَ التَّجاوُزِ، يا واسعَ المغفرةِ، يا باسِطَ اليَدين بالرحمةِ، يا صاحبَ كُلِّ نَجْوى، ويا مُنتهى كلِّ شَكْوى، يا كريمَ الصَّفْح، يا عظيمَ المَنِّ، يا مُبتدئَ النِّعَم قبل استحقاقِها، يا ربَّنا ويا سيدَنا ويا مَولانا، ويا غايةَ رَغبتِنا، أسألُك يا اللهُ أن لا تَشوِيَ خَلْقي بالنار"، فقال رسول الله ﷺ:"فما ثَواب هذه الكلماتِ؟" ثم ذكر باقيَ الحديث بعد الدعاء بطُوله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ رواته كلهم مدنيون ثِقات، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم الخلافَ بين أئمة الحديث في سماع شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو من جَدِّه.
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام بہت حسین و جمیل شکل و صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہنستے مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے: السلام علیک یا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے جواباً فرمایا: وعلیک السلام یا جبریل (جبریل نے) کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک تحفہ دے کر آپ کی طرف بھیجا ہے جو کہ عرش کے خزانوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے سرفراز فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے جبرائیل! وہ کون سا تحفہ ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یوں دعا مانگیں: اے وہ ذات جو اچھائیوں کو ظاہر کرتی ہے اور برائیوں کو چھپاتی ہے اور اے وہ ذات جو گناہوں پر مواخذہ نہیں کرتی ہے اور کسی کا پردہ چاق نہیں کرتی، اے عظیم معافی عطا کرنے والے اور اے احسن طریقے سے درگزر کرنے والے، اے وسیع مغفرت والے، اے دستِ رحمت پھیلانے والے، اے ہر سرگوشی کو جاننے والے، اے ہر شکوہ کے انجام، اے چشم پوشی کرنے والے کریم، اے عظیم احسان والے، اے استحقاق سے پہلے نعمتوں کی ابتداء کرنے والے، اے ہمارے رب! اے سردار! اے ہمارے آقا، اے ہماری رغبتوں کی انتہاء، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ تو مجھے جہنم میں نہ جلانا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کلمات کا ثواب کیا ہے؟ پھر دعاء کے بعد پوری مفصل حدیث بیان کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، مدنی ہیں اور اس سے پہلے میں ائمہ کے درمیان شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ان کے دادا سے سماع کے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2021]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2021 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أحمد بن محمد بن داود الصَّنعاني، فقد اتهمه الذهبي في "الميزان" بهذا الحديث مُتعقِّبًا الحاكمَ في تصحيحه وتوثيق رجاله. وقال الحافظ في "اللسان": قد جوّزتُ في ترجمة أحمد بن عبد الله ابن أخت عبد الرزاق أنه هذا، فإنَّ أحد ما قيل فيه: إنه أحمد بن داود، فكأنه نُسب إلى جده، وقد تقدَّم النقلُ عمَّن نسبه إلى الكذب. وقال الذهبي في "الميزان": وأما أفلحُ فذكره ابن أبي حاتم ولم يضعفه. قلنا: سماه ابن أبي حاتم أفلح بن كثير بن عبد الله بن فيروز الصنعاني، وذكر في الرواة عنه أبا زياد حماد بن زاذان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے۔ احمد بن محمد بن داود الصنعانی پر امام ذہبی نے اس حدیث کی وجہ سے جرح کی ہے اور امام حاکم کی تصحیح کا رد کیا ہے۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ وہی راوی ہے جسے کذاب (جھوٹا) کہا گیا ہے۔ تاہم سند میں موجود "افلح" کے بارے میں ابن ابی حاتم نے کوئی جرح نقل نہیں کی۔
وأخرجه البيهقي في "الدعوات الكبير" (238) عن أبي عبد الله الحاكم، بأسانيده الثلاثة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "الدعوات الکبیر" (238) میں امام حاکم کی تینوں اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن عباس عن أبي بن كعب عند العقيلي في "الضعفاء الكبير" (526)، والبيهقي في "الأسماء والصفات" (90)، والخطيب في "المتفق والمفترق" (609)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابن عباس عن ابی بن کعب کی روایت عقیلی اور بیہقی کے ہاں بھی ہے، مگر اس کی سند "ضعیف" ہے۔