🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. نزل القرآن على سبعة أحرف
قرآن کے فضائل — قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2054
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو همَّام، حدثنا ابن وهب، أخبرني حَيوة بن شُريح، عن عُقيل بن خالد، عن سَلَمة بن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن ابن مسعود، عن رسول الله ﷺ قال:"نزل الكتابُ الأولُ من بابٍ واحدٍ على حرفٍ واحدٍ، ونزل القرآنُ من سبعةِ أبواب على سبعة أحرف؛ زاجرًا وآمرًا، وحلالًا وحرامًا، ومُحكَمًا ومُتشابهًا، وأمثالًا، فأَحِلُّوا حلالَه، وحَرِّموا حرامَه، وافعلوا ما أُمرتُم به، وانتَهُوا عما نُهِيتُم عنه، واعتبِروا بأمثاله، واعْمَلُوا بمُحكَمِه، وآمِنُوا بمُتشابِهه، وقولوا: آمنَّا به كلٌّ مِن عند ربِّنا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہلی کتابیں ایک ہی انداز سے، ایک ہی قرأت کے مطابق نازل ہوئیں، البتہ قرآن کریم سات قراءتوں میں نازل ہوا، اس میں ڈانٹ بھی ہے، احکام بھی ہیں، ممانعتیں بھی ہیں، حلال بھی ہیں، حرام بھی ہیں، محکم بھی ہیں، متشابہات بھی ہیں اور بھی بہت سارے احکام ہیں، اس لیے اس کے حلال کردہ کو حلال جانو، اس کے حرام کردہ کو حرام جانو، جو اس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے منع کیا گیا ہے اس سے رُک جاؤ اور اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو اس کی محکمات پر عمل کرو اور اس کے متشابہات پر ایمان رکھو اور کہو: ہم ان پر ایمان لائے، سب کا سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2054]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2054 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو سلمة - وهو ابن عبد الرحمن بن عوف - لم يلق ابنَ مسعود فيما قاله الطحاوي في "مشكل الآثار" 8/ 116، وابن عبد البر في "التمهيد" 8/ 275، وأعلَّه ابنُ عبد البر أيضًا بسلمة بن أبي سلمة فقال: ليس ممَّن يُحتَج به. وكذلك أعلَّه بالانقطاع الذهبي في "تلخيصه"، وابن حجر في "فتح الباري" 15/ 58 وردَّ على ابن حبان والحاكم تصحيحَهما له.
🔍 علّت / فنی نکتہ: اس کی سند "انقطاع" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام طحاوی اور ابن عبدالبر کے مطابق ابوسلمہ کی ابن مسعود سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔ نیز ابن عبدالبر نے سلمہ بن ابی سلمہ کو ناقابلِ احتجاج قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی اور ابن حجر نے بھی انقطاع کی وجہ سے اسے معلول قرار دے کر حاکم و ابن حبان کی تصحیح کو رد کر دیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (745) عن أبي يعلى، عن أبي همّام بن أبي بدر - وهو الوليد بن شجاع السَّكوني - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے ابو یعلیٰ عن ابی ہمام (الولید بن شجاع السکونی) کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "مشكل الآثار" (3102) من طريق أبي زرعة وهب الله بن راشد، عن حيوة بن شريح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "مشکل الآثار" میں حیوہ بن شریح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وخالف حيوةَ فيه الليثُ بن سعد عند أبي عبيد في "فضائل القرآن" ص 100، والطحاوي أيضًا (3103) فرواه عن عقيل بن خالد، عن ابن شهاب الزُّهْري، عن سلمة بن أبي سلمة، به مرسَلًا ¤ ¤ لم يذكر فيه ابنَ مسعود.
⚠️ سندی اختلاف: حیوہ کی مخالفت لیث بن سعد نے کی ہے، انہوں نے اسے زہری عن سلمہ بن ابی سلمہ سے "مرسل" (بغیر ذکرِ ابن مسعود) روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا دون قوله: "زاجرا وآمرًا … إلخ" أحمد 7/ (4252)، والنسائي (7930) من طريق فُلفُلة الجُعْفي، عن ابن مسعود موقوفًا عليه من قوله. وفي إسناده لِين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے فلفلہ الجعفی کے طریق سے ابن مسعود پر "موقوف" (ان کا اپنا قول) روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں "لین" (ہلکا سا ضعف) ہے۔
وسيأتي الحديث مرة أخرى عند المصنف برقم (3181) من طريق الحسن بن أحمد بن الليث عن عبد الله بن وهب.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث مصنف کے ہاں دوبارہ نمبر (3181) پر الحسن بن احمد بن اللیث کے طریق سے آئے گی۔