🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. الْأَمْرُ بِتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَالنَّهْيُ عَنْ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ
قرآن کے فضائل — قرآن کی حفاظت کا حکم اور یہ کہنے سے ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2056
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا الليث بن سعد، حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أُسَيد بن حُضَير: أنه كان يقرأ وهو على ظهر بيته، وهو حَسَنُ الصوت، فجاء رسولُ الله ﷺ فقال: بَيْنا أنا أقرأُ إِذ غَشِيَني شيءٌ كالسحاب، والمرأةُ في البيت، والفرسُ في الدار، فتخوّفتُ أن تُسقِطَ المرأةُ وتَنفَلِتَ الفرسُ، فانصرفتُ، فقال له رسولُ الله ﷺ:"اقرأْ يا أُسَيدُ، فإنما هو مَلَكٌ استَمَعَ القرآنَ" (2)
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر تلاوت کر رہے تھے اور ان کی آواز بہت خوبصورت تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تلاوت کر رہا تھا کہ اچانک ایک بادل جیسی چیز نے مجھے ڈھانپ لیا، گھر میں اہلیہ تھیں اور صحن میں گھوڑا بندھا تھا، مجھے ڈر لگا کہ کہیں (گھوڑے کے بدکنے سے) اہلیہ کو چوٹ نہ لگ جائے یا گھوڑا چھوٹ نہ جائے، اس لیے میں نے تلاوت چھوڑ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے اسید! پڑھتے رہتے، کیونکہ وہ تو فرشتے تھے جو قرآن سننے کے لیے آئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف فيه على الليث بن سعد، فقد رواه عنه أسد ابن موسى كما وقع عند المصنّف هنا، وتابعه على ذلك عبد الله بن صالح كاتب الليث، وخالفهما عبدُ الله بن يوسف وقتيبةُ بن سعيد فروياه عن الليث عن ابن شهاب عن عبد الرحمن بن ...» [ترقيم الرساله 2056] [ترقيم الشركة 2040]

الحكم على الحديث: صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2056 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف فيه على الليث بن سعد، فقد رواه عنه أسد ¤ ¤ ابن موسى كما وقع عند المصنّف هنا، وتابعه على ذلك عبد الله بن صالح كاتب الليث، وخالفهما عبدُ الله بن يوسف وقتيبةُ بن سعيد فروياه عن الليث عن ابن شهاب عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك: أنَّ أُسيد بن حضير، مرسلًا، ووافقهما سفيان بن عُيينة في الرواية التالية عند الحاكم. فالأشبه أنه مرسلٌ من هذه الطريق.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ "صحیح" ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن لیث بن سعد پر اختلاف ہے۔ اسد بن موسیٰ اور عبداللہ بن صالح نے اسے متصل کہا ہے، جبکہ عبداللہ بن یوسف اور قتیبہ نے اسے زہری عن عبدالرحمن بن کعب "مرسل" روایت کیا ہے۔ قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ اس طریق سے مرسل ہے۔
وأخرجه أبو عبيد القاسم بن سلام في "فضائل القرآن" ص 63 عن عبد الله بن صالح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید نے عبداللہ بن صالح کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 5/ 313 تعليقًا عن عبد الله بن يوسف، والفريابي في "فضائل القرآن" (96) عن قتيبة بن سعيد، كلاهما عن الليث، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك: أنَّ أسيد بن حضير، فذكره مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے "تاریخِ کبیر" میں اور فاریابی نے قتیبہ بن سعید کے طریق سے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وقد رواه معمر عن الزُّهْري أيضًا، واختلف فيه على معمر:
⚠️ سندی اختلاف: معمر نے بھی اسے زہری سے روایت کیا ہے اور ان پر بھی شاگردوں کا اختلاف ہوا ہے۔
فقد رواه معمر عن الزُّهْري عن ابن كعب بن مالك، قال: إنَّ أسيد بن حضير قال لرسول الله ﷺ فذكره مرسلًا، يعني كرواية عبد الله بن يوسف عن الليث، أخرجه كذلك إسحاق بن راهويه كما في "المطالب العالية" (3548) عن عبد الرزاق عن معمر، به.
📖 حوالہ / مصدر: معمر کی ایک روایت اسحاق بن راہویہ کے ہاں ابن کعب بن مالک سے "مرسل" مروی ہے۔
ورواه عبد الرزاق مرة أخرى عن معمر، فقال: عن الزُّهْري ويحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة، قال: بينما أسيد بن حضير الأنصاري يصلي، فذكره مرسلًا. أخرجه كذلك في "مصنفه" (4182).
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق نے اپنی ایک دوسری روایت میں اسے زہری و یحییٰ بن ابی کثیر سے عن ابی سلمہ "مرسل" روایت کیا ہے۔
وخالف عبدَ الرزاق فيه ابنُ المبارك في "الزهد" (812)، فرواه عن معمر عن الزُّهْري ويحيى بن أبي كثير، قالا: بينما أسيد بن حضير يصلي، فذكره مرسلًا دون ذكر أبي سلمة في إسناده.
⚠️ سندی اختلاف: ابن المبارک نے عبدالرزاق کی مخالفت کی اور اس میں ابوسلمہ کا ذکر کیے بغیر "مرسل" روایت کیا۔
ورواه ابن جُرَيج عن الزُّهْري، قال: قال أسيد بن حضير: بينا أنا يا رسول الله البارحة أقرأ، فذكره مرسلًا، يعني كرواية معمر من طريق ابن المبارك عنه. أخرجه كذلك عبد الرزاق (4183).
📖 حوالہ / مصدر: ابن جریج نے بھی اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے جیسا کہ ابن المبارک کی روایت ہے۔
ورواه إسحاق بن راشد عن الزُّهْري، عن ابن كعب، عن أبيه، أنَّ أسيد بن حضير، فذكره وجعله من مسند كعب بن مالك. أخرجه من طريقه البزار في "مسنده" (3209)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (880).
📖 حوالہ / مصدر: اسحاق بن راشد نے اسے زہری سے روایت کر کے حضرت کعب بن مالک کی "مسند" میں شامل کر دیا ہے۔
تنبيه: للّيث بن سعد في قصة أسيد بن حضير هذه إسناد آخر، فقد علَّقه عنه البخاري في "صحيحه" (5018) فقال: وقال الليث: حدثني يزيد بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن أُسيد بن حضير، قال: بينما هو يقرأ، فذكره نحوه، ثم قال: قال ابن الهاد، وحدثني هذا الحديث عبد الله بن خباب، عن أبي سعيد الخُدْري، عن أسيد بن حضير. قال الحافظ في "فتح الباري" 15/ 128: محمد بن إبراهيم هو التيمي، ولم يُدرك أسيد بن حُضير، فروايته عنه منقطعة، لكن الاعتماد في وصل الحديث المذكور على الإسناد الثاني. ¤ ¤ قلنا: أخرجه بالإسناد الثاني مسلم (796).
🔍 علّت / فنی نکتہ: لیث بن سعد کی اس قصے میں ایک اور سند ہے جو بخاری میں معلق ہے۔ محمد بن ابراہیم کا سماع اسید بن حضیر سے نہیں ہے لہذا وہ منقطع ہے، لیکن اصل اعتماد دوسری سند (ابو سعید خدری عن اسید) پر ہے جو مسلم (796) میں موصول ہے۔
وستتكرر طريق أبي العباس محمد بن يعقوب هذه برقم (5341). وانظر تالييه.
🧾 تفصیلِ روایت: ابوالعباس محمد بن یعقوب کا یہ طریق دوبارہ نمبر (5341) پر آئے گا۔
وأخرج قصة أسيد هذه أيضًا لكن دون التصريح باسمه، البخاري (3614)، ومسلم (795) من حديث البراء بن عازب.
📖 حوالہ / مصدر: اسید بن حضیر کا یہ قصہ (نام کی صراحت کے بغیر) بخاری و مسلم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2056 in Urdu