🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. قراءة آية الكرسي يجير من الجن
آیۃ الکرسی پڑھنے سے جنّات سے حفاظت ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2088
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق بن يوسف، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا أبو داود الطّيالسي، حدثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني الحَضْرمي بن لاحِقٍ، عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب، عن جدِّه أُبيّ بن كعب: أنه كان له جَرِينُ تمرٍ (2) ، فكان يجدُه ينقُصُ، فحرسَه ليلةً، فإذا هو بمثل الغلامِ المحتلِم، فسلَّم عليه، فردَّ عليه السلامَ، فقال: أجِنّيٌّ، أم إنسيٌّ؟ فقال: بل جِنّيٌّ، فقال: أرِني يدَكَ، فأراه، فإذا يدُ كلبٍ، وشعرُ كلبٍ، فقال: هكذا خَلْقُ الجنِّ، فقال: لقد عَلِمَتِ الجنُّ أنه ليس فيهم رجلٌ أشدَّ مني، قال: ما جاء بك؟ قال: أُنبئنا أنك تحبُّ الصدقةَ، فجئنا نُصيبُ من طعامِكَ، قال: ما يُجِيرُنا منكم؟ قال: تقرأ آيةَ الكرسيّ من سورة البقرة ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255] ؟ قال: نعم، قال: إذا قرأتها غَدوةً أُجِرْتَ مِنّا حتى تُمسيَ، وإذا قرأتها حين تمسي أُجِرتَ مِنّا حتى تصبحَ. قال أُبي: فغَدَوتُ إلى رسول الله ﷺ، فأخبرتُه بذلك، فقال:"صَدَقَ الخَبِيثُ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کا کھجوروں کا ایک گودام تھا، جس میں دن بدن کمی واقع ہو رہی تھی۔ ایک رات انہوں نے پہرہ دیا تو ایک جوان لڑکے کی طرح کوئی شخص (وہاں) تھا، انہوں نے اس کو سلام کیا۔ اس نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو سلام کا جواب دیا۔ انہوں نے پوچھا: تو انسان ہے یا جن؟ اس نے کہا: (میں انسان نہیں ہوں) بلکہ جن ہوں۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنا سیدھا ہاتھ دکھاؤ۔ اس نے ہاتھ دکھایا تو وہ کتے کی طرح تھا اور اس کے بال بھی کتے جیسے تھے۔ انہوں نے کہا: (تم ٹھیک کہتے ہو کیونکہ) جنات کی تخلیق ایسی ہی ہوتی ہے۔ اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ جنات میں مجھ سے زیادہ کوئی سخت نہیں ہے۔ (سیدنا اُبی رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم کیا لینے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ تم صدقہ کرنا پسند کرتے ہو۔ اس لیے ہم آپ کے طعام سے اپنا حصہ لینے آئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: کون سی چیز ہمیں تم سے بچا سکتی ہے؟ اس نے کہا: تم سورۂ بقرہ میں سے آیۃ الکرسی لا الٰہ الّا ھو الحیُّ القیُّوم پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اُس نے کہا: اگر تم صبح کے وقت اس کو پڑھ لو گے تو شام تک اور شام کے وقت پڑھ لو گے تو صبح تک ہم سے محفوظ رہو گے۔ (سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے معاملہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس خبیث نے سچ کہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2088]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2088 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) الجَرِين: موضع تجفيف التمر، وهو كالبَيدَر للحنطة.
📝 نوٹ / توضیح: "جرین" اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کھجوریں خشک کی جاتی ہیں (کھلیان)۔
(3) إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختُلف فيه على يحيى بن أبي كثير، فروي عنه عن الحضرمي بن لاحق، كما وقع في هذه الطريق، وروي عنه عن الحضرمي عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب أنه كان لجده جرين، يعني مرسلًا، وروي عنه عن عبدة بن أبي لبابة عن عبد الله بن أُبيّ بن كعب ¤ ¤ عن أبيه، وروي عنه عن ابن أُبيّ بن كعب عن أبيه، يعني دون واسطة، وسيأتي بيانه، ومحمد بن عمرو بن أُبي المذكور هنا مجهول. أبو داود الطيالسي: هو سليمان بن داود.
🔍 علّت / فنی نکتہ: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کے نقل کرنے میں بہت اختلاف ہے، اور محمد بن عمرو بن ابی کعب نامی راوی "مجہول" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 7/ 109 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (541) عن العباس بن الفضل الأسفاطي، عن موسى بن إسماعيل، عن أبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن الحضرمي، عن محمد بن أُبيّ بن كعب، عن أبيه. ومحمد هذا: هو ابن عمرو بن أُبيّ الوارد اسمُه في إسناد الحاكم، فقوله: عن أبيه، يعني: عن جده، مجازًا.
📖 حوالہ / مصدر: طبرانی کی روایت میں "عن ابیہ" سے مراد مجازی طور پر "عن جدہ" (اپنے دادا سے) ہے۔
لكن خالف العباسَ الأسفاطيَّ البخاريُّ في "تاريخه" 1/ 27 - 28، فقال: عن موسى، عن أبان، عن يحيى، عن الحضرمي، عن محمد بن أبي بن كعب: أنَّ أبيًّا، فأرسله، وهذا أشبه.
⚠️ سندی اختلاف: امام بخاری نے عباس اسفاطی کی مخالفت کی اور اسے "مرسل" روایت کیا ہے، جو کہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
فقد أخرجه البخاري أيضًا في "تاريخه" 11/ 27 عن عمرو بن علي الفلّاس، ومحمد بن نصر المروَزي في "قيام الليل أيضًا - مختصره" ص 166 - 167، والشاشي في "مسنده" (1449)، والضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 4/ (1261) من طريق محمد بن بشار، كلاهما عن أبي داود الطيالسي، عن حرب، عن يحيى، عن الحضرمي، عن محمد بن أبيّ بن كعب، قال: كان لجدي أبي بن كعب، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری (تاریخ)، مروزی، شاشی اور ضیاء مقدسی نے اسے ابو داؤد طیالسی کے طریق سے "مرسل" ہی روایت کیا ہے۔
وكذلك أخرجه النسائي (10731)، ومن طريقه ابن عبد البر في "التمهيد" 16/ 269 من طريق معاذ بن هانئ، عن حرب بن شداد، به مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی اور ابن عبدالبر نے معاذ بن ہانی کے طریق سے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وكذا أخرجه النسائي (10732)، ومن طريقه ابن عبد البر 16/ 269 من طريق شيبان بن عبد الرحمن، عن يحيى بن أبي كثير، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی نے شیبان کے طریق سے بھی اسے "مرسل" ہی نقل کیا ہے۔
ورواه أيضًا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير، واختُلف عليه:
⚠️ سندی اختلاف: اوزاعی نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا مگر ان کے شاگردوں میں اختلاف ہو گیا۔
فأخرجه ابن أبي الدنيا في "الهواتف" (174) عن الحسن بن الصبّاح، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (5634/ 2)، ومن طريقه الضياء (1262) عن أحمد بن إبراهيم الدورقي، كلاهما عن مبشّر بن إسماعيل، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبدة بن أبي لبابة، عن عبد الله بن أبيّ بن كعب، أنَّ أباه أخبره.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی الدنیا، ابو یعلیٰ اور ضیاء نے مبشر بن اسماعیل کے طریق سے اسے موصول (متصل) روایت کیا ہے۔
وخالف عبدُ الحميد بن سعيد عند النسائي (10730) فرواه عن مبشِّر، عن الأوزاعي، عن يحيى، قال: حدثني ابنُ أبيّ بن كعب، أنَّ أباه أخبره. فلم يذكر عبدة في إسناده. وهذا عن الأوزاعي هو الأشبه.
🔍 علّت / فنی نکتہ: عبدالحمید بن سعید نے مبشر سے روایت کرتے ہوئے واسطہ (عبدہ) گرا دیا، اوزاعی سے یہی طریقہ زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
فقد أخرجه الحارث بن أبي أسامة كما في "بغية الباحث" للهيثمي (1051)، ومن طريقه أبو نعيم في "دلائل النبوة" (544) من طريق الهِقْل بن زياد، وابن حبان (784)، وأبو الشيخ ¤ ¤ في "العظمة" (1092)، والبَغَوي في "شرح السنة" (1197) من طريق الوليد بن مسلم، والشاشي في "مسنده" (1448) من طريق عمر بن عبد الواحد، والبيهقي في "دلائل النبوة" 7/ 108 - 109 من طريق الوليد بن مزيد، أربعتهم عن الأوزاعي، عن يحيى، فقال: حدثني ابن أبيّ بن كعب، أنَّ أباه أخبره. فوافقوا مبشّر بن إسماعيل في روايته الثانية التي ليس فيها عبدة، مع تصريح يحيى بن أبي كثير فيها بالسماع من عبد الله بن أبيّ بن كعب.
📌 اہم نکتہ: حارث بن ابی اسامہ، ابو نعیم، ابن حبان اور دیگر نے اوزاعی سے اسے بغیر "عبدہ" کے ذکر کے روایت کیا ہے، جس میں یحییٰ بن ابی کثیر کی عبداللہ بن ابی بن کعب سے سماع کی صراحت موجود ہے۔
ولأصل القصة شواهد رويت عن غير واحد من الصحابة تتقوّى بها سيأتي بيانها عند حديث ابن عباس برقم (6045).
🧩 متابعات و شواہد: اس قصے کی اصل کے کئی شواہد دیگر صحابہ سے مروی ہیں جن سے یہ قوی ہو جاتا ہے، ان کی تفصیل ابن عباس کی حدیث (نمبر 6045) کے تحت آئے گی۔