المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. قِرَاءَةُ آيَةِ الْكُرْسِيِّ يُجِيرُ مِنَ الْجِنِّ
آیۃ الکرسی پڑھنے سے جنّات سے حفاظت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2088
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق بن يوسف، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا أبو داود الطّيالسي، حدثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني الحَضْرمي بن لاحِقٍ، عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب، عن جدِّه أُبيّ بن كعب: أنه كان له جَرِينُ تمرٍ (2) ، فكان يجدُه ينقُصُ، فحرسَه ليلةً، فإذا هو بمثل الغلامِ المحتلِم، فسلَّم عليه، فردَّ عليه السلامَ، فقال: أجِنّيٌّ، أم إنسيٌّ؟ فقال: بل جِنّيٌّ، فقال: أرِني يدَكَ، فأراه، فإذا يدُ كلبٍ، وشعرُ كلبٍ، فقال: هكذا خَلْقُ الجنِّ، فقال: لقد عَلِمَتِ الجنُّ أنه ليس فيهم رجلٌ أشدَّ مني، قال: ما جاء بك؟ قال: أُنبئنا أنك تحبُّ الصدقةَ، فجئنا نُصيبُ من طعامِكَ، قال: ما يُجِيرُنا منكم؟ قال: تقرأ آيةَ الكرسيّ من سورة البقرة ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255] ؟ قال: نعم، قال: إذا قرأتها غَدوةً أُجِرْتَ مِنّا حتى تُمسيَ، وإذا قرأتها حين تمسي أُجِرتَ مِنّا حتى تصبحَ. قال أُبي: فغَدَوتُ إلى رسول الله ﷺ، فأخبرتُه بذلك، فقال:"صَدَقَ الخَبِيثُ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کا کھجوروں کا ایک گودام تھا، جس میں دن بدن کمی واقع ہو رہی تھی۔ ایک رات انہوں نے پہرہ دیا تو ایک جوان لڑکے کی طرح کوئی شخص (وہاں) تھا، انہوں نے اس کو سلام کیا۔ اس نے ” ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو سلام کا جواب دیا۔ انہوں نے پوچھا: تو انسان ہے یا جن؟ اس نے کہا: (میں انسان نہیں ہوں) بلکہ جن ہوں۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنا سیدھا ہاتھ دکھاؤ۔ اس نے ہاتھ دکھایا تو وہ کتے کی طرح تھا اور اس کے بال بھی کتے جیسے تھے۔ انہوں نے کہا: (تم ٹھیک کہتے ہو کیونکہ) جنات کی تخلیق ایسی ہی ہوتی ہے۔ اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ جنات میں مجھ سے زیادہ کوئی سخت نہیں ہے۔ (سیدنا اُبی رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم کیا لینے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ تم صدقہ کرنا پسند کرتے ہو۔ اس لیے ہم آپ کے طعام سے اپنا حصہ لینے آئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: کون سی چیز ہمیں تم سے بچا سکتی ہے؟ اس نے کہا: تم سورۂ بقرہ میں سے آیۃ الکرسی ” لا الٰہ الّا ھو الحیُّ القیُّوم “ پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اُس نے کہا: اگر تم صبح کے وقت اس کو پڑھ لو گے تو شام تک اور شام کے وقت پڑھ لو گے تو صبح تک ہم سے محفوظ رہو گے۔ (سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے معاملہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس خبیث نے سچ کہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2088]
حدیث نمبر: 2089
أخبرني أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو هشام محمد بن يزيد، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرْثَد بن عبد الله، عن عُقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"اقرأْ بالآيتَين من آخرِ سورة البقرة، فإني أُعطِيتُهما من تحتِ العرش" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھا کرو، کیونکہ یہ مجھے عرش کے نیچے سے (خاص خزانے کے طور پر) عطا کی گئی ہیں“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2089]