🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. قراءة آية الكرسي يجير من الجن
آیۃ الکرسی پڑھنے سے جنّات سے حفاظت ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
أخبرني أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو هشام محمد بن يزيد، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرْثَد بن عبد الله، عن عُقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"اقرأْ بالآيتَين من آخرِ سورة البقرة، فإني أُعطِيتُهما من تحتِ العرش" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھا کرو، کیونکہ یہ مجھے عرش کے نیچے سے (خاص خزانے کے طور پر) عطا کی گئی ہیں۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2089]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2089 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، أبو هشام محمد بن يزيد - وهو الرفاعي، وإن كان ضعيفًا - قد توبع، ومحمد بن إسحاق مدلّس وقد عنعن، لكنه توبع أيضًا فتحتمل عنعنته هنا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔ ابو ہشام رفاعی اگرچہ ضعیف ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے، اور محمد بن اسحاق کی "عنعنہ" بھی متابعت کی وجہ سے قابلِ قبول ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17324) من طريق سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے سلمہ بن الفضل کے طریق سے محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (17445) عن يحيى بن إسحاق، عن ابن لهيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے یحییٰ بن اسحاق عن ابن لہیعہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
وابن لهيعة - وهو عبد الله، وإن كان ساء حفظه بعد احتراق كتبه - قد روى عنه هذا الحديث قتيبة بن سعيد عند الفريابي في "فضائل القرآن" (51)، وقد أخذ قتيبة أحاديث ابن لهيعة من كتب عبد الله بن وهب، وعبد الله بن وهب ممّن سمع من ابن لهيعة قديمًا قبل احتراق كتبه، فإسناد ابن لهيعة حسنٌ.
📌 اہم نکتہ: ابن لہیعہ اگرچہ حافظے کے کمزور تھے، لیکن قتیبہ بن سعید نے ان سے جو روایات ابن وہب کی کتب کے واسطے سے نقل کی ہیں، وہ حسن درجہ کی ہیں کیونکہ ابن وہب کا سماع ان کی کتابیں جلنے سے پہلے کا ہے۔
ويشهد له حديث أبي ذر الغفاري الآتي برقم (2091).
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت ابوذر کی حدیث (2091) سے ہوتی ہے۔
وحديث حذيفة بن اليمان الذي أشار إليه الحاكم بإثر (2092)، وهو عند مسلم (522) إلَّا أنه لم يسق لفظه، وأفصح عنه ابن أبي شيبة 11/ 435 وغيره.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت حذیفہ کی حدیث صحیح مسلم (522) میں ہے، اگرچہ وہاں الفاظ نہیں ہیں مگر ابن ابی شیبہ وغیرہ نے ان کی وضاحت کی ہے۔
وحديث عبد الله بن مسعود موقوفًا عليه عند النسائي (7969) بإسناد صحيح، ومثله لا يقال بالرأي، فله حكم المرفوع.
⚖️ حکم: ابن مسعود کی موقوف روایت صحیح ہے اور چونکہ یہ رائے سے نہیں کہی جا سکتی، اس لیے اس کا حکم "مرفوع" کا ہے۔