المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. فضيلة الحال المرتحل وبيانه
ہمیشہ قرآن میں مشغول رہنے والے (حال و مرتحل) کی فضیلت اور اس کی وضاحت۔
حدیث نمبر: 2122
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا سليمان بن داود المَهْرِي وأحمد بن عمرو بن السَّرْح، قالا: حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، عن ابن أبي مُلَيكة: أنه حدثه عن ناسٍ دَخَلُوا على سعد بن أبي وقّاص، فسألوه عن القرآن، فقال سعد: أمَا إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (1) . فهذه الرواية تدلُّ على أنَّ ابن أبي مُلَيكة لم يسمعه من راوٍ واحدٍ، إنما سمعه مِن رُواةٍ لسعدٍ. وقد تَرَك عبيدُ الله بن الأخنس وعِسْلُ بن سفيان الطريقَ عن ابن أبي مُلَيكة، وأَتيا به فيه بإسنادَين شاذّين. أما حديث عُبيد الله بن الأخنس:
سیدنا ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ جو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے، انہوں نے یہ بات بتائی کہ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے قرآن کے متعلق پوچھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: بہرحال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کو سُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ ٭٭ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے صرف ایک راوی سے یہ حدیث نہیں سنی بلکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے متعدد راویوں سے انہوں نے یہ حدیث سنی ہے۔ جبکہ عبیداللہ بن اخنس اور عسل بن سفیان نے ابن ابی ملیکہ کی سند ترک کی اور اس میں دو شاذ سندیں استعمال کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2122]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2122 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وإبهام هؤلاء الذي دخلوا على سعد لا يضر، لأنه عُرف منهم عُبيد الله بن أبي نَهيك، وهو ثقة، وثقه النسائي والعجلي وابن حبان.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند صحیح ہے، مبہم افراد کے ہونے سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ عبید اللہ بن ابی نہیک ثقہ اور معروف ہیں۔