🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. فضيلة الحال المرتحل وبيانه
ہمیشہ قرآن میں مشغول رہنے والے (حال و مرتحل) کی فضیلت اور اس کی وضاحت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2123
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عبد الرحمن بن غَزْوان أبو نوح، حدثنا عُبيد الله بن الأخنس، حدثنا عَبد الله بن عُبيد الله (1) بن أبي مُلَيكة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (2) . وأمّا حديث عِسْل بن سفيان:
سیدنا عبیداللہ بن اخنس رضی اللہ عنہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کو سُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ ٭٭ اسی حدیث کو حارث بن مرہ ثقفی بصری نے عسل بن سفیان کے واسطے سے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے کہ اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتی ہیں۔ اور حارث نے اسی سند کے ہمراہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2123]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2123 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) انقلب في النسخ الخطية إلى: عبيد الله بن عبد الله، والصواب ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں نام الٹ پلٹ ہو گیا تھا، جسے درست کر دیا گیا ہے۔
(2) صحيح من حديث ابن أبي مُلَيكة عن ابن أبي نهيك عن سعد بن أبي وقاص، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه شاذّ كما قال الحاكم، وقال البخاري كما يدل في "علل الترمذي الكبير" (649): هذا حديث خطأ.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اگرچہ راوی ثقہ ہیں مگر یہ روایت "شاذ" (غیر معمولی) ہے، امام بخاری نے اسے "خطأ" (غلطی) قرار دیا ہے۔
قلنا: يعني أنَّ عُبيد الله بن الأخنس خالف جماعة الثقات من أصحاب ابن أبي مُلَيكة الذين رووه عنه عن ابن أبي نَهيك عن سعد بن أبي وقاص، كما تقدَّم في الروايات السابقة، وكذلك خطَّأ هذه الرواية غير واحد من أئمة الحديث كما قدمناه عند الحديث (2181)، إذ صوَّبوا رواية من رواه عن ابن أبي مُلَيكة عن ابن أبي نهيك عن سعد.
⚠️ سندی اختلاف: عبید اللہ بن اخنس نے دیگر ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے، اس لیے ائمہ حدیث نے اسے غلط قرار دیا ہے۔
وأخرجه الترمذي في "العلل الكبير" (649)، والبزار (2332 - كشف الأستار)، وأبو عوانة (3879)، والطبراني في "الكبير" (11239)، والقضاعي في "مسند الشهاب" (1200) من طرق عن عُبيد الله بن الأخنس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی، بزار، ابو عوانہ اور طبرانی نے عبید اللہ بن اخنس کے طریق سے روایت کیا ہے۔