🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. البيع يحضره الكذب واليمين فشوبوه بالصدقة
خرید و فروخت میں جھوٹ اور قسم آ جاتی ہے، اس لیے اسے صدقے کے ساتھ ملا دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حُذيفة ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان الثَّوْري، عن منصور. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق وأبو محمد بن موسى، قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة الغِفاري، قال: كنا بالمدينة، فنبيعُ الأوساقَ ونبتاعُها، وكنا نسمي أنفسَنا السماسرةَ ويُسمِّينا الناسُ، فخرج علينا رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم، فسمَّانا باسمٍ هو خَيرٌ مِن الذي سمَّينا أنفسَنا وسمّانا الناسُ، فقال:"يا مَعشَرَ التجار، إنه يشهدُ بيعكم اللغوُ والحَلِفُ، فَشُوبُوه بصدقةٍ" (1) . وأما حديث المغيرة:
منصور نے ابووائل کے واسطے سے سیدنا قیس ابن ابی غرزہ الغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ہم مدینۃ المنورہ میں وسقوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو سماسرہ (دلال) کہا کرتے تھے اور دوسرے لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے۔ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نام سے زیادہ اچھے نام سے پکارا جس کے ساتھ ہم اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو پکارتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہِ تاجراں! تمہاری تجارت میں لغویات اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے تم اپنی تجارت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ مغیرہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2168]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2168 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أحمد بن محمد بن عيسى: هو القاضي البِرْتي، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي، ومحمد بن كثير: هو العَبْدي، وأبو بكر بن إسحاق: هو أحمد بن إسحاق بن أيوب الصِّبغي، وأبو محمد بن موسى: هو عبد الله بن محمد بن موسى الكَعْبي، ومحمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس الرازي، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اس میں جریر بن عبدالحمید اور ابو وائل جیسے ثقہ ائمہ شامل ہیں۔
وأخرجه النسائي (4723) و (6012) من طريقين عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے جریر بن عبدالحمید کے دو مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔