🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. الْبَيْعُ يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْيَمِينُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ
خرید و فروخت میں جھوٹ اور قسم آ جاتی ہے، اس لیے اسے صدقے کے ساتھ ملا دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2167
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى الأسدي، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، قال: سمعتُه من عاصم ومن عبد الملك بن أعْيَنَ ومن جامع بن أبي راشد، عن أبي وائلٍ، عن قيس بن أبي غَرَزةَ، قال: كنا قومًا نُسمَّى السماسرةَ، وكنا نَبيع بالبَقيع (1) ، فأتانا رسول الله ﷺ، فسمَّانا بأحسنَ من اسمِنا، فقال:"يا معشرَ التجار، إنَّ هذا البيعَ يحضُرُه الكذبُ واليمينُ فشُوبُوهُ بالصدقةِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه؛ لِما قدَّمتُ ذِكرَه من تفرُّد أبي وائل بالرواية عن قيس بن أبي غَرَزَة (3) ، وهكذا رواه منصورُ بن المعتمِر والمغيرةُ بن مِقْسَم وحَبيب بن أبي ثابت عن أبي وائل. أما حديث منصورٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2138 - صحيح_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مَنْصُورٍ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہماری قوم کو سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا۔ اور ہم بقیع میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ پھر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے اچھے نام کے ساتھ پکارا (یوں بولے:) اے گروہِ تاجراں! تجارت میں جھوٹ اور قسمیں شامل ہو جایا کرتی ہیں، اس لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملا دیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی وجہ پہلے ہم نے ذکر کر دی ہے۔ وہ یہ کہ قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں ابووائل منفرد ہیں۔ اس حدیث کو منصور بن المعتمر، مغیرہ بن مقسم اور حبیب ابن ابی ثابت نے بھی ابووائل سے روایت کیا ہے۔ منصور کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2167]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حُذيفة ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان الثَّوْري، عن منصور. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق وأبو محمد بن موسى، قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة الغِفاري، قال: كنا بالمدينة، فنبيعُ الأوساقَ ونبتاعُها، وكنا نسمي أنفسَنا السماسرةَ ويُسمِّينا الناسُ، فخرج علينا رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم، فسمَّانا باسمٍ هو خَيرٌ مِن الذي سمَّينا أنفسَنا وسمّانا الناسُ، فقال:"يا مَعشَرَ التجار، إنه يشهدُ بيعكم اللغوُ والحَلِفُ، فَشُوبُوه بصدقةٍ" (1) . وأما حديث المغيرة:
منصور نے ابووائل کے واسطے سے سیدنا قیس ابن ابی غرزہ الغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ہم مدینۃ المنورہ میں وسقوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو سماسرہ (دلال) کہا کرتے تھے اور دوسرے لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے۔ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نام سے زیادہ اچھے نام سے پکارا جس کے ساتھ ہم اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو پکارتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہِ تاجراں! تمہاری تجارت میں لغویات اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے تم اپنی تجارت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ مغیرہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2168]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2169
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مَرْزُوق، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي. وأخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وهب بن جَرير. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذَان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة، قال: أتانا النبيُّ ﷺ إلى السوق، فقال:"يا مَعشَرَ التجار، إنَّ هذا السوقَ يخالِطُها حَلِفٌ، فشُوبُوها بصدقةٍ" (1) . وأما حديث حَبيب بن أبي ثابت:
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ابووائل کے واسطے سے سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے گروہِ تاجراں! ان بازاروں میں قسمیں شامل ہو جاتی ہیں تو تم ان کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ حبیب ابن ابی ثابت کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2169]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2170
فأخبرَناه أبو عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا علي بن الجَعْد، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة، قال: جاءنا رسول الله ﷺ ونحن نبيع الرَّقيقَ بالمدينة، وكنا نُسمَّى السماسرةَ، فسمّانا بأحسنَ مما سمَّينا به أنفسَنا، فقال:"يا معشرَ التجار، إنَّ هذا البيعَ يحضُرُه اللغوُ والأيمانُ، فشُوبُوه بالصدقة" (2) ، هذا لفظ حديث الثَّوْري.
سیدنا حبیب ابن ابی ثابت رضی اللہ عنہ نے ابووائل کے واسطے سے سیدنا قیس ابن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم لوگ مدینہ میں غلاموں کی تجارت کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو سماسرہ (دلال) کہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے زیادہ اچھے نام کے ساتھ پکارا جو ہم خود اپنا نام رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہِ تاجراں! اس تجارت میں فضول گوئی اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ ٭٭ (مذکورہ حدیث کی تین سندیں بیان کی گئی ہیں جبکہ) یہ الفاظ سفیان ثوری کی روایت کے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2170]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں