المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. البيع يحضره الكذب واليمين فشوبوه بالصدقة
خرید و فروخت میں جھوٹ اور قسم آ جاتی ہے، اس لیے اسے صدقے کے ساتھ ملا دو۔
حدیث نمبر: 2170
فأخبرَناه أبو عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا علي بن الجَعْد، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة، قال: جاءنا رسول الله ﷺ ونحن نبيع الرَّقيقَ بالمدينة، وكنا نُسمَّى السماسرةَ، فسمّانا بأحسنَ مما سمَّينا به أنفسَنا، فقال:"يا معشرَ التجار، إنَّ هذا البيعَ يحضُرُه اللغوُ والأيمانُ، فشُوبُوه بالصدقة" (2) ، هذا لفظ حديث الثَّوْري.
سیدنا حبیب ابن ابی ثابت رضی اللہ عنہ نے ابووائل کے واسطے سے سیدنا قیس ابن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم لوگ مدینہ میں غلاموں کی تجارت کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو ” سماسرہ “ (دلال) کہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے زیادہ اچھے نام کے ساتھ پکارا جو ہم خود اپنا نام رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہِ تاجراں! اس تجارت میں فضول گوئی اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ ٭٭ (مذکورہ حدیث کی تین سندیں بیان کی گئی ہیں جبکہ) یہ الفاظ سفیان ثوری کی روایت کے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2170]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2170 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي، وسفيان: هو الثَّوري، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنّى، ويحيى: هو ابن سعيد القطان. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 26/ (16137) عن بَهْز بن أسد، عن شعبة، بهذا الإسناد.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔ امام احمد نے اسے بہز بن اسد عن شعبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (16138) عن عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان الثَّوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرحمن بن مہدی نے سفیان ثوری کی سند سے روایت کیا ہے۔