🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. ليس منا من غشنا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
فأخبرَناه أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي (1) ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر، أخبرني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: جاء النبي ﷺ إلى السُّوق، فرأى حِنطةً مُصَبَّرة، فأدخل يدَه فيها، فوَجَدَ بَلَلًا، فقال:"ألا مَن غشَّنا فليس مِنّا" (2) . وأما حديث إسماعيل بن جعفر بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
محمد بن جعفر، علاء کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر گندم کا ایک ڈھیر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈال دیا تو اس میں گیلا پن محسوس کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہم سے دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2183]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2183 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحف في (ز) و (ب) إلى: العنبري، وإنما هو العَنَزي كما في (ص) و (ع)، وهو أحمد بن محمد بن عَبْدُوس، له ترجمة في "سير أعلام النبلاء" 15/ 519.
📝 نام کی تصحیح: نسخوں میں "العنبری" لکھا تھا جو غلط ہے، درست "العنزی" ہے، جو احمد بن محمد بن عبدوس ہیں۔
(2) إسناده صحيح كسابقه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح اس کی سند بھی صحیح ہے۔
وقوله: "مُصبَّرة" أي: مُكدَّسَة.
📖 لغوی تشریح: "مُصَبَّرَہ" سے مراد کھانے پینے کی وہ چیزیں ہیں جن کا ڈھیر لگا دیا گیا ہو۔