🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. ليس منا من غشنا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
فأخبرَناه دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب. وحدثنا أبو الفضل بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد، حدثنا علي بن حُجر؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على صُبْرةٍ من طعام، فأدخل يدَه فيه، فنالتْ أصابعُه بَلَلًا، فقال:"ما هذا يا صاحبَ الطعام!؟" فقال: أصابتْه السماءُ يا رسول الله، قال:"أفلا جعلتَه فوقَ الطعامِ حتى يَراهُ الناسُ"، ثم قال:"مَن غشَّ فليس مِنّي" (3) . وقد أخرج مسلم حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن غَشّنا فليس مِنّا" (1) . وأما شرحُ الحالِ في هذه الأحاديث فلم يخرجاه (2) ، وكلُّها صحيحة على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2155 - رواه مسلم مختصرا
اسماعیل بن جعفر، ابوالعلاء رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر گندم کے ایک ڈھیر کے پاس سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کر دیا تو آپ نے انگلیوں میں تری محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گندم والے! یہ کیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: یا رسول اللہ! بارش برسنے کی وجہ سے یہ گیلی ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس (گیلی گندم) کو ڈھیر کی اوپر والی جانب کیوں نہیں کیا تاکہ لوگوں کو یہ نظر آتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ٭٭ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سہیل کی حدیث ان کے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ تاہم ان احادیث کی تشریح کو شیخین نے نقل نہیں کیا حالانکہ وہ تمام کی تمام امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2184]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2184 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه مسلم (102)، والترمذي (1315) عن علي بن حُجر، ومسلم (102) عن يحيى بن أيوب المقابري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم اور ترمذی نے اسی سند کے ساتھ اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (102) عن قتيبة بن سعيد، وابن حبان (1905) من طريق موسى بن إسماعيل، كلاهما عن إسماعيل بن جعفر، به. ¤ ¤ وصُبْرة الطعام، بضم الصاد المهملة وسكون الباء: ما جُمع من الطعام بلا كيل ولا وزن، بعضه فوق بعض.
📖 تشریح: امام مسلم اور ابن حبان نے اسے اسماعیل بن جعفر کے طریق سے روایت کیا۔ "صُبْرَہ" اس اناج کے ڈھیر کو کہتے ہیں جو بغیر ناپ تول کے ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔
(1) أخرجه مسلم (101) من طريقين عن سهيل - وهو ابن أبي صالح السمّان - به.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم نے اسے سہیل بن ابی صالح کے دو مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم كما قدَّمنا من طريق إسماعيل بن جعفر عن العلاء.
📝 تصحیح: حاکم کا اسے مسلم میں نہ ہونا کہنا درست نہیں، کیونکہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ مسلم میں یہ العلاء کے طریق سے موجود ہے۔
(3) إسناده صحيح. موسى بن هارون: هو ابن عبد الله الحمّال، ويحيى بن أيوب: هو المَقابري، وأبو الفضل بن إبراهيم: هو محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكّي النيسابوري، وإبراهيم بن محمد بن يزيد: هو إبراهيم بن محمد بن خالد بن يزيد المروَزي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔ اس میں موسیٰ بن ہارون اور یحییٰ بن ایوب المقابری جیسے ثقہ حفاظ شامل ہیں۔