🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو الجَوّاب الأحوص بن جَوّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، حدثنا عبد الله بن عيسى، عن عُمير بن سعيد، عن عمِّه، قال: خرج رسول الله ﷺ إلى البقيع، فرأى طعامًا يباع في غَرائر، فأدخل يده، فأخرج شيئًا كَرِهَه، فقال:"مَن غشّنا فليس مِنّا" (3) .
هذا حديث صحيح، وعَمُّ عمير بن سعيد: هو الحارث بن سويد النَّخَعي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2156 - صحيح
سیدنا عمیر بن سعید اپنے چچا (سیدنا حارث بن سوید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی طرف تشریف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوریوں میں بکتا ہوا غلہ دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا دستِ مبارک ڈالا تو ایسی چیز (رطوبت یا عیب) نکالی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور عمیر بن سعید کے چچا حارث بن سوید نخعی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد جيدٌ إن شاء الله، وقد اختُلف في اسم التابعي المذكور، فسماه عمار بن رُزَيق عن عبد الله بن عيسى - وهو ابن عبد الرحمن بن أبي ليلى -: عمير بن سعيد، وخالف عمارًا شريكُ بن عبد الله النخعي كما سيأتي تخريجه، فرواه عن عبد الله بن ...» [ترقيم الرساله 2185] [ترقيم الشركة 2166] [ترقيم العلميه 2156]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2185 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد جيدٌ إن شاء الله، وقد اختُلف في اسم التابعي المذكور، فسماه عمار بن رُزَيق عن عبد الله بن عيسى - وهو ابن عبد الرحمن بن أبي ليلى -: عمير بن سعيد، وخالف عمارًا شريكُ بن عبد الله النخعي كما سيأتي تخريجه، فرواه عن عبد الله بن عيسي، فسماه: جميع بن عمير، وقال: عن خاله، وخالفهما قيس بن الربيع كما قال الدارقطني في "العلل" 6/ 24 (954)، فرواه عن عبد الله بن عيسى، فسماه سعيد بن عمير. ونظن أنَّ هذا الأخير هو الصحيح في اسمه، وأنه هو نفسه الذي يروي عنه وائل بن داود حديث "أفضل الكسب" الآتي عند المصنف، فقد رواه سفيان الثَّوري عن وائل بن داود برقم (2188)، فسماه سعيد بن عمير، فوافق قيس بن الربيع، وأخطأ شريك النخعي مرة أخرى فرواه عن وائل بن داود برقم (2187) فسماه جميع بن عمير، وقال: عن خاله.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے اور یہ سند جید (بہتر) ہے۔ تابعی کے نام میں اختلاف ہے؛ عمار بن رزیق نے "عمیر" کہا، جبکہ شریک نے "جمیع" کہا۔
ونظن أيضًا أنه نفسه الذي يروي عنه سعيد بن سعيد أبو الصبَّاح التغلبي حديث فضل الصلاة على النبي ﷺ الذي أخرجه النسائي في "الكبرى" (9809) و (9810)، فقد سماه سعيد بن عمير، وقُيّد في بعض الروايات بسعيد بن عمير بن عقبة بن نِيار. وعليه يدل صنيع البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 502 حيث أورد في ترجمة سعيد بن عمير حديث فضل الصلاة على النبي ﷺ الذي قُيّد فيه بأنه ابنُ عقبة بن نيار، وحديث أطيب الكسب.
🔍 تحقیقی نکتہ: ہمارا گمان ہے کہ یہ وہی راوی "سعيد بن عمير بن عقبہ بن نیار" ہیں جن کا ذکر امام بخاری نے تاریخ کبیر میں کیا ہے اور جن سے فضائلِ درود کی روایات مروی ہیں۔
فخلصنا بذلك إلى أنَّ الصحيح اسم التابعي سعيد بن عمير، وأنَّ شريكًا كان يخطئ في اسمه ¤ ¤ دائمًا، وأنَّ عمار بن رُزيق قلب اسمه، وإذا ثبت ذلك فسعيد بن عمير هذا هو ابن عقبة بن نِيار، وعمه أبو بردة بن نيار، يعني عمَّ أبيه، وقد روى عن سعيد جمعٌ وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال عنه يعقوب بن سفيان: لا بأس به.
📌 نتیجہ تحقیق: درست نام سعيد بن عمير ہی ہے، اور شریک نخعی ان کا نام لینے میں اکثر غلطی کرتے تھے۔ یہ ثقہ راوی ہیں اور یعقوب بن سفیان نے انہیں "لا بأس بہ" (درست) کہا ہے۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه الكبير" (2551) عن أبيه زهير بن حرب، عن أبي الجوّاب الأحوص بن جوّاب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے اپنی "تاریخ کبیر" میں زہیر بن حرب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15833) و 27/ (16489) من طريقين عن شريك النخعي، عن عبد الله بن عيسى، عن جميع - وفي الموضع الثاني قال: أو أبي جميع - عن خاله أبي بردة. وانظر تمام تخريجه في "المسند".
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے شریک نخعی کے دو طرق سے روایت کیا ہے، جن میں نام کے متعلق شک کا ذکر ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة السابق.
🧩 شواہد: ابوہریرہؓ کی سابقہ حدیث اس روایت کی تائید کرتی ہے۔
والغرائر جمع غِرارة: وهي وعاء من صوف أو شعر أو خيش، يوضع فيه الحبوب والتبن.
📖 لغوی تشریح: "غرائر" بڑی بوریاں یا تھیلے (Gunnysacks) ہیں جو اون یا پٹ سن سے بنے ہوتے ہیں اور اناج رکھنے کے کام آتے ہیں۔
(1) كذا جزم الحاكم بأنَّ صحابي الحديث هو الحارث بن سويد النخعي، وإنما هو أبو بردة بن نيار كما بينّاه، ولم نجد للحاكم في ذلك سلفًا، والله تعالى أعلم.
📝 تصحیح: امام حاکم کا یہ دعویٰ کہ صحابی "حارث بن سوید" ہیں، درست نہیں؛ صحیح یہ ہے کہ وہ ابو بردة بن نیار ہیں، جیسا کہ ہم نے ثابت کیا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2185 in Urdu