المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. ليس منا من غشنا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 2186
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا أبو النضر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن يزيد بن أبي مالك، حدثنا أبو سِبَاع، قال: اشتريتُ ناقةً من دار واثِلةَ بن الأسْقَع، فلما خرجتُ بها أدركَني واثلةُ وهو يجُرُّ إزاره، فقال: يا عبدَ الله، اشتريتَ؟ قلتُ: نعم، قال: بُيِّنَ لك ما فيها؟ قلت: وما فيها؟ إنها لَسَمينةٌ ظاهرةُ الصِّحّة؟ قال: أردتَ بها سفرًا أو أردتَ بها لحمًا؟ قلت: أردتُ بها الحجَّ، قال: فارتجِعْها، فقال صاحبُها: ما أردتَ إلّا هذا أصلحك الله؟ تُفسِدُ عَليَّ، قال: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"لا يَحِلُّ لأحدٍ يبيعُ شيئًا إلّا بيَّن ما فيه، ولا يَحِلُّ لمن عَلِمَ ذلك إلّا بَيَّنَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2157 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2157 - صحيح
ابوسباع فرماتے ہیں: میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حویلی سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں اس کو لے کر نکلا تو آگے سے واثلہ آ ملے۔ وہ اپنے تہہ بند کو گھسیٹتے ہوئے آ رہا تھا۔ اس نے پوچھا: اے عبداللہ! کیا یہ تم نے خریدی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا: اس میں جو عیب ہے وہ اس نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا: اس کو کیا ہوا ہے؟ بظاہر تو ماشاء اللہ یہ اچھی خاصی صحت مند ہے۔ اس نے کہا: آپ اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا گوشت کھانے کے ارادے سے یہ خریدی ہے؟ میں نے کہا: میں نے حج پر جانے کے لیے یہ خریدی ہے۔ اس نے کہا تو پھر یہ واپس کر دیں، اس کے مالک نے کہا: یہ تم نے خود ہی پسند کی تھی، اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے۔ تو نے اس کا نقص میرے اوپر ظاہر کر دیا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سُنا ہے ” کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ عیب بتائے بغیر کوئی عیب دار چیز بیچے “۔ اور جو شخص اس کے عیب کو جانتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کو چھپائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2186]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2186 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة أبي سباع، ولانقطاعه، فقد قال ابن معين فيما نقله عنه عباس الدُّوري: أبو جعفر الرازي لم يسمع من يزيد بن أبي مالك شيئًا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ ابو سباع مجہول ہے اور ابو جعفر الرازی کا یزید بن ابی مالک سے سماع ثابت نہیں (انقطاع ہے)۔
وأخرجه أحمد 25/ (16013) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابو النضر ہاشم بن القاسم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج المرفوع منه ابن ماجه (2247) من طريق بقية بن الوليد، عن معاوية بن يحيى، عن ¤ ¤ مكحول وسليمان بن موسى، عن واثلة، رفعه بلفظ: "من باع عيبًا لم يُبيّنه لم يَزَل في مقت الله، ولم تزل الملائكة تلعنه". وإسناده ضعيف أيضًا لضعف بقية وشيخه معاوية بن يحيى.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: ابن ماجہ نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: "جس نے عیب دار چیز چھپا کر بیچی، وہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے"۔ مگر اس کی سند بھی بقیہ اور معاویہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ولقوله: "لا يحل لأحد يبيع شيئًا إلّا بيَّن ما فيه" شاهد من حديث عقبة بن عامر الذي تقدم برقم (2181)، وإسناده حسن.
🧩 شواہد: اس حصے کے لیے عقبہ بن عامرؓ کی حدیث نمبر (2181) ایک حسن شاہد ہے۔