المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. البر حسن الخلق ، والإثم ما حاك فى صدرك
نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
حدیث نمبر: 2203
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا أسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ تَضَوَّرَ ذاتَ ليلةٍ، فقيل له: ما أسهَرَك؟ قال:"إني وَجدتُ تمرةً ساقِطةً فأكلتُها، ثم ذَكَرتُ تمرًا كان عندنا من تمر الصَّدقة، فما أدري أمِن ذلك كانتِ التمرةُ، أو من تمرِ أهلي، فذلك أسْهَرَني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2173 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2173 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات کروٹیں بدلتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، آپ رات بھر کیوں جاگتے رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے گھر میں ایک گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھا لیا ہے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ کچھ کھجوریں ہمارے پاس صدقہ کی بھی تھیں۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں نے جو کھجور کھائی ہے وہ صدقہ کی کھجوروں میں سے تھی یا ہماری گھر کی کھجوروں میں سے تھی۔ بس اسی وجہ سے رات بھر مجھے نیند نہیں آئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2203]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2203 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروَزي، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة المروَزي، وعبدان لقبُه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اسامہ بن زید لیثی کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔ عبدان اور ابو الموجہ مروزی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6720) عن أبي بكر الحنفي، و (6820) عن وكيع، كلاهما عن أسامة بن زيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابوبکر الحنفی اور وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔
تَضَوَّر: أي: تَلَوَّى وتَقَلَّب ظهرًا لبطن.
📖 لغوی تشریح: "تضور" کا مطلب ہے بھوک یا تکلیف سے تڑپنا، لوٹ پوٹ ہونا اور پہلو بدلنا۔