🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. البر حسن الخلق ، والإثم ما حاك فى صدرك
نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2203
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا أسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ تَضَوَّرَ ذاتَ ليلةٍ، فقيل له: ما أسهَرَك؟ قال:"إني وَجدتُ تمرةً ساقِطةً فأكلتُها، ثم ذَكَرتُ تمرًا كان عندنا من تمر الصَّدقة، فما أدري أمِن ذلك كانتِ التمرةُ، أو من تمرِ أهلي، فذلك أسْهَرَني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2173 - صحيح
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بے چین رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کس چیز نے آپ کو بیدار رکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک گری ہوئی کھجور ملی تو میں نے اسے کھا لیا، پھر مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاس صدقے کی کھجوریں بھی تھیں، اب میں نہیں جانتا کہ وہ کھجور انہی میں سے تھی یا میرے گھر کی کھجوروں میں سے، پس اسی بات نے مجھے بیدار رکھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2203]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروَزي، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة المروَزي، وعبدان لقبُه.» [ترقيم الرساله 2203] [ترقيم الشركة 2184] [ترقيم العلميه 2173]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2203 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروَزي، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة المروَزي، وعبدان لقبُه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اسامہ بن زید لیثی کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔ عبدان اور ابو الموجہ مروزی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6720) عن أبي بكر الحنفي، و (6820) عن وكيع، كلاهما عن أسامة بن زيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابوبکر الحنفی اور وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔
تَضَوَّر: أي: تَلَوَّى وتَقَلَّب ظهرًا لبطن.
📖 لغوی تشریح: "تضور" کا مطلب ہے بھوک یا تکلیف سے تڑپنا، لوٹ پوٹ ہونا اور پہلو بدلنا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2203 in Urdu