🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ
نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2202
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح. وأخبرنا أحمد بن جعفر، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن نَوَّاس بن سِمْعان الأنصاري، قال: سألتُ النبيَّ ﷺ عن البِرِّ والإثمِ، قال:"البِرُّ حسنُ الخُلُق، والإثمُ ما حاكَ في صدرِك وكرهتَ أن يَطَّلعَ عليه الناسُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2172 - صحيح
سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں یہ ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2202]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "مسند أحمد" 29/ (17631).» [ترقيم الرساله 2202] [ترقيم الشركة 2183] [ترقيم العلميه 2172]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2203
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا أسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ تَضَوَّرَ ذاتَ ليلةٍ، فقيل له: ما أسهَرَك؟ قال:"إني وَجدتُ تمرةً ساقِطةً فأكلتُها، ثم ذَكَرتُ تمرًا كان عندنا من تمر الصَّدقة، فما أدري أمِن ذلك كانتِ التمرةُ، أو من تمرِ أهلي، فذلك أسْهَرَني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2173 - صحيح
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بے چین رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کس چیز نے آپ کو بیدار رکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک گری ہوئی کھجور ملی تو میں نے اسے کھا لیا، پھر مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاس صدقے کی کھجوریں بھی تھیں، اب میں نہیں جانتا کہ وہ کھجور انہی میں سے تھی یا میرے گھر کی کھجوروں میں سے، پس اسی بات نے مجھے بیدار رکھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2203]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروَزي، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة المروَزي، وعبدان لقبُه.» [ترقيم الرساله 2203] [ترقيم الشركة 2184] [ترقيم العلميه 2173]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2204
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن رافع ومحمد بن يحيى، قالوا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن أبي ذئب، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أدري أتُبَّعٌ لعينًا كان أم لا، وما أدري ذو القَرْنين أنَبيًّا كان أم لا، وما أدري الحدودُ كفاراتٌ لأهلِها أم لا؟" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2174 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تبع (شاہِ یمن) ملعون تھا یا نہیں، اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں، اور میں نہیں جانتا کہ (شرعی) حدود ان پانے والوں کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2204]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إن شاء الله كما قدّمنا بيانه برقم (104).» [ترقيم الرساله 2204] [ترقيم الشركة 2185] [ترقيم العلميه 2174]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2205
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى اللَّخْمي، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا أبو مُعَيد حفص بن غَيلان، حدثنا سليمان بن موسى، عن نافع، عن ابن عُمر، وعن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عبّاس؛ أنهما كانا يقولان: عن رسول الله ﷺ:"مَن اشترى بَيعًا فوَجَبَ له، فهو بالخيار ما لم يُفارِقْه صاحبُه، إن شاء أخذَه، فإن فارقَه فلا خِيارَ له" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2175 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے تھے: جس نے کوئی سودا خریدا اور اس کا حق ثابت ہو گیا، تو اسے اختیار حاصل ہے جب تک کہ وہ اپنے ساتھی (بیچنے والے) سے جدا نہ ہو جائے، اگر چاہے تو اسے لے لے، لیکن جب وہ جدا ہو جائے تو پھر اسے (فسخ کا) اختیار نہیں رہے گا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2205]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أحمد بن عيسى اللَّخْمي، لكنه متابع.» [ترقيم الرساله 2205] [ترقيم الشركة 2186] [ترقيم العلميه 2175]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں