المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. البر حسن الخلق ، والإثم ما حاك فى صدرك
نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
حدیث نمبر: 2204
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن رافع ومحمد بن يحيى، قالوا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن أبي ذئب، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أدري أتُبَّعٌ لعينًا كان أم لا، وما أدري ذو القَرْنين أنَبيًّا كان أم لا، وما أدري الحدودُ كفاراتٌ لأهلِها أم لا؟" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2174 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2174 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تبع لعین تھا یا نہیں؟ اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں؟ اور میں نہیں جانتا کہ حدود صاحب حد (کے گناہوں) کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں؟ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2204]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2204 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح إن شاء الله كما قدّمنا بيانه برقم (104).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند صحیح ہے جیسا کہ نمبر (104) پر بیان ہوا۔