المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. البر حسن الخلق ، والإثم ما حاك فى صدرك
نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
حدیث نمبر: 2205
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى اللَّخْمي، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا أبو مُعَيد حفص بن غَيلان، حدثنا سليمان بن موسى، عن نافع، عن ابن عُمر، وعن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عبّاس؛ أنهما كانا يقولان: عن رسول الله ﷺ:"مَن اشترى بَيعًا فوَجَبَ له، فهو بالخيار ما لم يُفارِقْه صاحبُه، إن شاء أخذَه، فإن فارقَه فلا خِيارَ له" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2175 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2175 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کوئی چیز خریدے تو یہ بیع اختیار کے ساتھ ثابت ہوتی ہے، وہ اپنے ساتھی کے جدا ہونے سے پہلے پہلے بااختیار ہوتا ہے، چاہے تو رکھ لے (اور چاہے تو واپس کر دے) لیکن اگر اس کا ساتھی جدا ہو گیا تو اب اس کا اختیار ختم ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2205]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2205 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أحمد بن عيسى اللَّخْمي، لكنه متابع.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ احمد بن عیسیٰ اللخمی کے باعث یہ سند ضعیف ہے، مگر اس کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (4914) و (4915) من طريق زيد بن يحيى بن عُبيد، عن أبي مُعَيد حفص بن غيلان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے حفص بن غیلان کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 9/ (5418) و 10/ (6006)، والبخاري (2107) و (2109) و (2111) و (2112)، ومسلم (1531)، وأبو داود (3154)، وابن ماجه (2181)، والترمذي (1245)، والنسائي (6014 - 6022)، وابن حبان (4912) و (4916) من طرق عن نافع، عن ابن عمر. زادوا "إلّا بيع الخيار" ولفظ بعضهم: "أو يقول أحدهما لصاحبه: اختر" وبعضهم يقول: "أو يكون بيع خيار"، وكلها بمعنًى.
✅ صحیح حدیث: اسے احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد اور تمام کتبِ سنن نے ابن عمرؓ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ "خیار" (سودا منسوخ کرنے کا حق) کے الفاظ کے ساتھ یہ صحیح ترین روایات ہیں۔
وأخرجه أحمد 8/ (4566) و 9/ (5130)، والبخاري (2113)، ومسلم (1531)، والنسائي (6023 - 6028)، وابن حبان (4913) من طريق عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، بلفظ: "كل بَيِّعين لا بيع بينهما حتى يتفرقا، إلّا بيع الخيار".
📖 حوالہ / مصدر: بخاری و مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں: "بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان سودا تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے"۔
قال الترمذي: معنى قوله ﷺ: "إلّا بيع الخيار" معناه: أن يُخيِّر البائعُ المشتري بعد إيجاب البيع، فإذا خيّره فاختار البيع فليس له خِيار بعد ذلك في فسخ البيع، وإن لم يتفرقا.
📖 فقہی تشریح: امام ترمذی کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ سودا پکا ہونے کے بعد اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دیا اور اس نے قبول کر لیا، تو پھر جدائی سے پہلے بھی سودا منسوخ نہیں ہو سکتا۔
قلنا: وقد جاء بيان ذلك في رواية الليث بن سعد عن نافع عن ابن عمر عند أحمد 10/ (6006)، والبخاري (2112)، ومسلم (1531)، وابن ماجه (2181)، والنسائي (6020).
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مزید وضاحت لیث بن سعد کی روایت میں بخاری و مسلم کے ہاں موجود ہے۔