🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. الخراج بالضمان
نفع ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى غلامًا في زمن النبي ﷺ وبه عَيبٌ لم يَعلَمْ به، فاستغلَّه، ثم عَلِمَ العيبَ فردَّه، فخاصمَه إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنه استغلَّه منذ زمان، فقال رسول الله ﷺ:"الغَلَّةُ بالضَّمَان" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه ابنُ أبي ذئب، عن مَخلَد بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2177 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے دوسرے سے عیب دار غلام خریدا لیکن خریدار کو خریدتے وقت اس کا علم نہ تھا۔ وہ غلام سے غلہ جمع کرواتا رہا پھر اس کو عیب کا پتہ چلا تو واپس کر دیا۔ وہ اپنا جھگڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے غلام سے ایک عرصہ تک غلہ جمع کروایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو ابن ابی ذئب نے مخلد بن خفاف پھر عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصراً روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2207]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2207 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح كسابقه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی صحیح ہے۔
(2) لكن أخرجه بعضهم من هذه الطريق مطولًا بنحو لفظ مسلم بن خالد كأبي داود الطيالسي والشافعي وغيرهما.
📖 حوالہ / مصدر: بعض ائمہ جیسے طیالسی اور شافعی نے اسے طویل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔