🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ
نفع ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2206
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى مِن رجل غلامًا في زمن النبي ﷺ، فكان عنده ما شاء الله، ثم رَدَّه مِن عَيْبٍ وَجَدَ به، فقال الرجل حين ردَّ عليه الغلام: يا رسول الله، إنه كان استغلَّ غلامي منذ كان عنده، فقال النبي ﷺ:"الخَرَاجُ بالضَّمَان" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2176 - صحيح
امیرالمومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا، کچھ عرصہ وہ غلام اس خریدار کے پاس رہا۔ پھر اس کو اس غلام میں عیب معلوم ہوا تو واپس کر دیا اور جب اس نے یہ غلام واپس کیا تو وہ بولا: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب تک غلام اس کے پاس رہا ہے یہ اس سے کام کرواتا رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2206]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى غلامًا في زمن النبي ﷺ وبه عَيبٌ لم يَعلَمْ به، فاستغلَّه، ثم عَلِمَ العيبَ فردَّه، فخاصمَه إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنه استغلَّه منذ زمان، فقال رسول الله ﷺ:"الغَلَّةُ بالضَّمَان" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه ابنُ أبي ذئب، عن مَخلَد بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2177 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے دوسرے سے عیب دار غلام خریدا لیکن خریدار کو خریدتے وقت اس کا علم نہ تھا۔ وہ غلام سے غلہ جمع کرواتا رہا پھر اس کو عیب کا پتہ چلا تو واپس کر دیا۔ وہ اپنا جھگڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے غلام سے ایک عرصہ تک غلہ جمع کروایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو ابن ابی ذئب نے مخلد بن خفاف پھر عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصراً روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2207]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2208
أخبرَناه عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا محمد بن الجَهْم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا ابن أبي ذِئب. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، والحسن بن علي بن زياد، قالا: حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذِئب. وأخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن أبي ذئب. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الجَعد، حدثنا ابن أبي ذئب، عن مَخلَدِ بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الخَرَاجَ بالضَّمان" (1) . وحديث عاصم: قضى رسول الله ﷺ أَنَّ الخَرَاج بالضَّمان (2) . رواه الثَّوْري وابنُ المبارك ويحيى بنُ سعيد عن ابن أبي ذئب. أما حديث الثَّوري:
ابن ابی ذئب رضی اللہ عنہ نے مخلد بن خفاف، عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ ٭٭ عاصم کی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے ۔ اس حدیث کو ثوری، یحیی بن سعید اور ابن مبارک نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے۔ ثوری کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2208]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2209
فأخبرَناه بَكْر بن محمد الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا قَبيصة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو عبد الله الصَّفار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن ابن أبي ذئب، عن مخلد بن خُفاف، عن عُرْوة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قضى أنَّ الخَرَاج بالضَّمان (1) . وأما حديث ابن المبارك:
سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے اپنی سند کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے ۔ ابن مبارک کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2209]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2210
فأخبرَناه الحسن بن حَلِيم، أخبرنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا ابنُ أبي ذئب، عن مَخْلَد بن خُفاف، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"الخَراج بالضَّمان" (2) . وأما حديث يحيى بن سعيد:
ابن مبارک نے اپنی سند کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے ۔ یحیی بن سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2210]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2211
فأخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن ابن أبي ذئب، عن مَخْلَد بن خُفاف، عن عُرْوة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قضى أنَّ الخَرَاج بالضَّمان (3) .
یحیی بن سعید رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ خراج ضمان کے عوض ہوتا ہے ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2211]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں