🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. من أنظر معسرا ووضع له ، أظله الله فى ظله
جو تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عَفّان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جُحَادة، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن أنظَرَ مُعسِرًا فله بكلِّ يوم صدقةٌ قبل أن يَحِلَّ الدَّينُ، فإذا حَلَّ الدَّينُ فأنْظَرَه بعد ذلك فله بكلِّ يوم مثلُه صدقةً" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تنگدست کو مہلت دے، اس کے لیے قرض کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور جب ادائیگی کا دن آ جائے لیکن وہ اس کے بعد بھی مہلت دے، تو اسی طرح ہر دن کے بدلے صدقے کا ثواب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2256]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2256 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده صحيح. عفان: هو ابن مسلم الصَّفّار.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے 📝 توضیح: عفان سے مراد ابن مسلم الصفار ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23046) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد. لكن بلفظ: "من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة" قال: ثم سمعته يقول: "من أنظر مُعسرًا فله بكل يوم مثليه صدقة" قلت: سمعتك يا رسول الله تقول: "من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة" ثم سمعتك تقول: "من أنظر مُعسرًا فله بكل يوم مثليه صدقة" قال له: "بكل يوم صدقة قبل أن يَحِلَّ الدَّين، فإذا حلَّ الدَّين فأنظرَه فله بكل يوم مثليه صدقة".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23046) نے عفان کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، اس کے لیے ہر دن کے بدلے اتنے ہی مال کا صدقہ لکھا جائے گا، اور مدت پوری ہونے کے بعد مہلت دی تو ہر دن کے بدلے دوگنا صدقہ لکھا جائے گا"۔
لكن لفظ الحاكم هو المعتمد، وهو الذي رواه جماعة أصحاب عفان غير أحمد، وكذلك هو الذي رواه جماعة أصحاب عبد الوارث.
📌 اہم نکتہ: امام حاکم کے الفاظ ہی معتبر ہیں، کیونکہ عفان اور عبدالوارث کے دیگر تمام شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22970)، وابن ماجه (2418) من طريق نُفيع بن الحارث أبي داود الأعمى، عن بريدة. ولفظه على الجادة، لكن أبا داود الأعمى متروك الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2418) نے بھی روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں ابوداؤد الاعمٰی "متروک الحدیث" (ناقابلِ قبول) ہے۔
ومعنى الحديث: أنه إن أنظره قبل حلول الدَّين كان له بكل يوم صدقة مطلقة غير محددة، وإن أنظره بعد حلول أجل الدَّين كان له بكل يوم مثلُ قدرِ ما أقرضَه صدقةً. ¤ ¤ وهذه الصدقة المطلقة في الإنظار قبل حُلول أجل الدَّين قد جاء تقييدها في حديث ابن مسعود عند أحمد 7/ (3911) وغيره بأنها تعدل شَطْرَ الصدقة. يعني كأنه تصدّق بشطر ما أقرض.
📝 توضیح: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر قرض کی مدت پوری ہونے سے پہلے مہلت دی جائے تو ہر دن کا عام صدقہ ملے گا، لیکن مدت پوری ہونے کے بعد مہلت دی تو ہر روز اتنی رقم کے برابر صدقہ ملے گا جتنا قرض دیا تھا 📌 اہم نکتہ: مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق مدت سے پہلے کی مہلت آدھے صدقے کے برابر ہوتی ہے۔