المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. النهي عن كسر سكة المسلمين الجائزة .
مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2264
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس. وأخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي، أخبرنا أبو مسلم؛ قالا: حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن فَضَاء. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المعتمر بن سليمان، حدثنا محمد بن فَضَاء، عن أبيه، عن علقمة بن عبد الله المُزَني، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن كَسْر سِكّةِ المسلمين الجائزةِ بينهم إلّا من بأسٍ، أو أن يُكسَرَ الدرهمُ فيُجعلَ فضةً، ويُكسَرَ الدينارُ فيُجعلَ ذهبًا" (2) . ولم يذكر الأنصاريُّ في حديثه والدَ علقمة، وذكره المعتمِر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2233 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2233 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
علقمہ بن عبداللہ مزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے مروج سکوں کو توڑنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ اس میں کوئی خرابی ہو، یا یہ کہ درہم کو توڑ کر چاندی اور دینار کو توڑ کر سونا بنا لیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن فضاء وجهالة أبيه فضاء بن خالد الجهضمي، وأخرجه أحمد 24/ (15457)، وأبو داود (3449)، وابن ماجه (2263) من طرق عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد، دون قوله: "أو أن يكسر الدرهم … " إلى آخره.» [ترقيم الرساله 2264] [ترقيم الشركة 2246] [ترقيم العلميه 2233]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف محمد بن فضاء وجهالة أبيه فضاء بن خالد الجهضمي
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2264 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف محمد بن فضاء وجهالة أبيه فضاء بن خالد الجهضمي. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 24/ (15457)، وأبو داود (3449)، وابن ماجه (2263) من طرق عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد، دون قوله: "أو أن يكسر الدرهم … " إلى آخره.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند محمد بن فضاء کے ضعف اور ان کے والد فضاء بن خالد کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15457)، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
قال الخطابي: أصل السكة: الحديدة التي يطبع عليها الدراهم، والنهي إنما وقع عن كسر الدراهم المضروبة على السكة.
📝 توضیح: امام خطابی فرماتے ہیں کہ ممانعت ان درہموں کو توڑنے سے ہے جو سکہ بند ہوں اور لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہوں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2264 in Urdu