المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. إن الله لعن الخمر ، وعاصرها ، ومعتصرها ، وشاربها
اللہ تعالیٰ نے شراب، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے اور پینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 2265
أخبرني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، أخبرنا حَيْوة بن شُريح، أخبرنا مالك بن خير الزَّبَادي، أنَّ مالك بن سعد التُّجِيبِي حدثه، أنه سمع ابن عباس يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أتاني جبريلُ، فقال: يا محمد، إِنَّ الله لَعَنَ الخمرةَ، وعاصِرَها، ومُعتَصِرَها، وشارِبَها، وحامِلَها، والمحمولةَ إليه، وبائعَها، وساقِيَها، ومُستَقِيَها (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وشاهده حديث عبد الله بن عمر، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2234 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وشاهده حديث عبد الله بن عمر، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2234 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت کی ہے، اور اسے نچوڑنے والے، نچوڑوانے والے، پینے والے، اٹھا کر لے جانے والے، جس کی طرف لے جائی جائے، اسے بیچنے والے، پلانے والے اور پینے کی فرمائش کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کا شاہد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2265]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کا شاہد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مالك بن خير الزَّبادي وشيخه مالك بن سعد التُّجِيبي.» [ترقيم الرساله 2265] [ترقيم الشركة 2247] [ترقيم العلميه 2234]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2265 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّفت في (ز) و (ب) إلى: مُسقيها، بحذف المثناة، والساقي والمُسقِي واحدٌ، وأما المُستقي فهو الذي يطلب الخمر، وهو أعمّ من أن يكون شاربًا.
🔍 علّت / فنی نکتہ: نسخہ (ز) اور (ب) میں "مسقیھا" ہو گیا ہے، جبکہ درست "مستقیھا" ہے، مستقی وہ ہے جو شراب طلب کرے، چاہے وہ خود پیے یا نہ پیے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مالك بن خير الزَّبادي وشيخه مالك بن سعد التُّجِيبي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے اور سند مالک بن خیر اور ان کے استاد کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ (2897) عن أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وزاد "ومُبتاعها".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (5/ 2897) نے ابوعبدالرحمن المقرئ کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں "خریدنے والے" کا بھی اضافہ ہے۔
وأخرجه ابن حبان (5356) من طريق عبد الله بن وهب، عن حيوة بن شُريح، به. لكنه قال في روايته: "ومسقاها" بدل: "مُستَقيها"، ومسقى الخمر، بفتح الميم وضمها، من الثلاثي والرباعي: موضع شرب الخمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5356) نے حیوہ بن شریح کے طریق سے روایت کیا ہے مگر وہاں "مستقیھا" کی جگہ "مسقاھا" (شراب پینے کی جگہ) کا لفظ ہے۔
وسيأتي من طريق ابن وهب عند المصنف برقم (7415).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں ابن وہب کے طریق سے نمبر (7415) پر دوبارہ آئے گی۔
ويشهد له حديث عبد الله بن عمر الآتي بعده.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید میں عبد اللہ بن عمر کی حدیث اس کے بعد آئے گی۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2265 in Urdu