🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا
اللہ تعالیٰ نے شراب، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے اور پینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
أخبرني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، أخبرنا حَيْوة بن شُريح، أخبرنا مالك بن خير الزَّبَادي، أنَّ مالك بن سعد التُّجِيبِي حدثه، أنه سمع ابن عباس يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أتاني جبريلُ، فقال: يا محمد، إِنَّ الله لَعَنَ الخمرةَ، وعاصِرَها، ومُعتَصِرَها، وشارِبَها، وحامِلَها، والمحمولةَ إليه، وبائعَها، وساقِيَها، ومُستَقِيَها (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وشاهده حديث عبد الله بن عمر، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2234 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شراب، اس کو بنانے والے، اس کو بنوانے والے، اس کو پینے والے، اس کو اٹھانے والے اور جس کی طرف اٹھایا جائے اور اس کے بیچنے والے اس کے پلانے والے اور پلوانے والے پر لعنت فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2265]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2266
أخبرَناه محمد بن عيسى القزّاز الرازي ببغداد وعبد الله بن موسى العَدْل بنَيسابُور، قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن سعيد بن عبد الرحمن بن وائل، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لعنَ اللهُ الخمرَ، ولعنَ ساقِيَها، وشاربَها، وعاصِرَها، ومُعتَصِرَها، وحامِلَها، والمحمولةَ إليه، وبائعَها، ومُبتاعَها، وآكلَ ثَمنِها" (1) .
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت فرمائی اور اس کے پلانے والے، پینے والے، نچوڑنے والے، نچڑوانے ولے، اٹھانے والے، اٹھوانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے اور اس کی کمائی کھانے والے پر۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2266]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2267
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا يحيى بن سَلَّام، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ ابتاعَ مِن أعرابي جَزُورًا بتمرٍ، وكان يرى أنَّ التمرَ عنده، فإذا بعضُه عندَه وبعضُه ليس عندَه، فقال:"هل لك أن تأخُذَ بعضَ تمرِك وبعضَه إِلى الجَدَاد؟" فأَبى، فاستسلَفَ له النبيُّ ﷺ تمرَه، فدَفَعَه إليه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2236 - يحيى بن سلام ضعيف ولم يخرج له أحد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کھجوروں کے بدلے اونٹ خریدا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ (اونٹ کی پوری قیمت کی) کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہیں لیکن جب دیکھا تو وہ کھجوریں کم تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس دیہاتی سے) کہا: کیا آپ کے پاس یہ گنجائش ہے کہ کچھ کھجوریں ابھی لے لو اور بقیہ پھل آنے تک (میں دے دوں گا)؟ اس نے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ادھار کھجوریں پکڑ کر اس کو دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2267]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2268
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا عبد الله بن سالم، حدثنا محمد بن حمزة بن محمد بن يوسف بن عبد الله بن سَلَام، عن أبيه، عن جده: أنَّ زيد بن سَعْنةَ كان من أحبار اليهود أتى النبيَّ ﷺ يتقاضاه، فجَبَذَ ثوبه عن مَنكِبِه الأيمن، ثم قال: إنكم يا بني عبد المطّلب أصحابُ مَطْلٍ، وإني بكم لَعَارِف، قال: فانتَهَره عمرُ، فقال له رسول الله ﷺ:"يا عمرُ، أنا وهو كنا إلى غيرِ هذا منك أحوجَ، أن تأمُرَني بحُسن القَضاءِ، وتأمُرَه بحُسن التَّقاضي، انطلِقْ يا عمرُ أَوفِهِ حَقَّه، أما إنه قد بقيَ مِن أجله ثلاثٌ، فزِدْه ثلاثين صاعًا لتدويرِك عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2237 - مرسل
سیدنا عبداللہ بن سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن سعنہ کا تعلق یہودی علماء سے ہے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا کوئی قرضہ لینے کے لیے آیا۔ اس نے آپ کے دائیں کندھے سے کپڑے کو پکڑ کر کھینچا اور کہنے لگا: اے بنی عبدالمطلب! میں تم لوگوں کو جانتا ہوں تم بہت ٹال مٹول کرنے والے لوگ ہو۔ (راوی) فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اس کو ڈانٹنے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ تو مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کا مشورہ دے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضے کا مشورہ دے۔ اے عمر جاؤ اور اس کا پورا حق ادا کر دو اگرچہ اس کی مدت پوری ہونے میں ابھی تین دن باقی ہیں اور چونکہ تو نے اس کو جھڑکا ہے اس لیے (اس کے کفارے کے طور پر) 30 صاع زیادہ دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2268]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں