🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. إن الله لعن الخمر ، وعاصرها ، ومعتصرها ، وشاربها
اللہ تعالیٰ نے شراب، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے اور پینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2267
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا يحيى بن سَلَّام، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ ابتاعَ مِن أعرابي جَزُورًا بتمرٍ، وكان يرى أنَّ التمرَ عنده، فإذا بعضُه عندَه وبعضُه ليس عندَه، فقال:"هل لك أن تأخُذَ بعضَ تمرِك وبعضَه إِلى الجَدَاد؟" فأَبى، فاستسلَفَ له النبيُّ ﷺ تمرَه، فدَفَعَه إليه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2236 - يحيى بن سلام ضعيف ولم يخرج له أحد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کھجوروں کے بدلے اونٹ خریدا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ (اونٹ کی پوری قیمت کی) کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہیں لیکن جب دیکھا تو وہ کھجوریں کم تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس دیہاتی سے) کہا: کیا آپ کے پاس یہ گنجائش ہے کہ کچھ کھجوریں ابھی لے لو اور بقیہ پھل آنے تک (میں دے دوں گا)؟ اس نے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ادھار کھجوریں پکڑ کر اس کو دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2267]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2267 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده جيّد، يحيى بن سلّام مختلف فيه، وهو إلى الثقة أقرب، قال عنه أبو حاتم: صدوق، وقال أبو زرعة: لا بأس به، ربما وهم، ووثقه أبو العرب القيرواني وأبو عمرو الداني، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: ربما أخطأ، وضعفه الدارقطني، وقال ابن عدي: يُكتَب حديثه مع ضعفه. قلنا: ولم يُصب الذهبي في إطلاق القول بتضعيفه في "تلخيص المستدرك"، ومال في "تاريخ الإسلام" 5/ 222 إلى تقوية حاله، وهو الأقرب، على أنه لم ينفرد به، فقد توبع.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "جید" ہے، یحییٰ بن سلام اگرچہ مختلف فیہ ہیں لیکن وہ ثقہ راویوں کے زیادہ قریب ہیں 📌 اہم نکتہ: ابوحاتم، ابوزراعہ، دانی اور ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے یا انہیں صدوق کہا ہے، امام ذہبی کا "تلخیص" میں انہیں مطلق ضعیف کہنا درست نہیں، جبکہ انہوں نے خود "تاریخ الاسلام" میں ان کی تقویت کی طرف میلان ظاہر کیا ہے، مزید یہ کہ ان کی تائید (متابعہ) بھی موجود ہے۔
وقد اختُلف في وصل هذا الحديث وإرساله عن هشام بن عروة، فقد رواه جماعة عنه موصولًا منهم حماد بن سلمة ومحمد بن إسحاق ويحيى بن عمير في آخرين ذكرهم الدارقطني في "العلل" (3497)، وذكر أنَّ حماد بن زيد وأنس بن عياض قد روياه عن هشام مرسلًا، وصحح المرسل، لكن وصلُه غير مستنكر باجتماع جماعة عليه، والله أعلم بالصواب. ولما أخرجه العُقيلي (1820) من طريق مُرجَّى بن رجاء عن هشام موصولًا، قال: هذا يُروى بغير هذا الإسناد من وجه أصلح من هذا.
🔍 علّت / فنی نکتہ: ہشام بن عروہ سے اس حدیث کے متصل (موصول) یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے، حماد بن سلمہ اور ابن اسحاق جیسے راویوں کی ایک جماعت نے اسے متصل روایت کیا ہے جبکہ حماد بن زید وغیرہ نے مرسل ⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اگرچہ دارقطنی نے مرسل کو صحیح کہا ہے، لیکن راویوں کی ایک بڑی جماعت کے متصل روایت کرنے کی وجہ سے اس کا "موصول" ہونا بھی غیر مستنکر (قابل قبول) ہے۔
وأخرجه البيهقي في "معرفة السنن والآثار" (11592) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 43/ (26312)، وأبو الشيخ في "أخلاق النبي ﷺ" (76)، والبَغَوي في "الأنوار في شمائل النبي المختار" (224) من طريق محمد بن إسحاق، وعبد بن حميد (1499)، والبزار 18/ (88)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 6/ 20 من طريق يحيى بن عمير، والعقيلي في "الضعفاء" (1820)، والقضاعي في "مسند الشهاب" (983) من طريق مُرجَّى بن رجاء، وابن مَنْدهْ في "معرفة الصحابة" كما في "الإصابة" للحافظ 7/ 632 من طريق عبد الملك بن يحيى بن عبّاد، كلهم عن هشام بن عروة، به موصولًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی، امام احمد (43/ 26312)، ابوالشیخ اور بغوی نے محمد بن اسحاق، یحییٰ بن عمیر اور دیگر کے مختلف طریقوں سے ہشام بن عروہ سے "موصولاً" روایت کیا ہے۔
وخالفهم وكيع بن الجراح عند ابن أبي شيبة 6/ 591، وعَبْدة بن سليمان عند إسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (1452)، ومعمر بن راشد عند عبد الرزاق في "مصنفه" (15358)، كلهم عن هشام بن عروة، عن أبيه مرسلًا. وزاد فيهم الدارقطني كما تقدم حماد بن زيد وأنس بن عياض.
⚠️ سندی اختلاف: وکیع، عبدہ بن سلیمان اور معمر بن راشد نے اسے ہشام بن عروہ سے "مرسل" روایت کیا ہے (یعنی صحابی کا ذکر نہیں کیا)۔
لكن جاء من طريق أخرى عن عروة بن الزُّبَير موصولًا:
🧩 متابعات و شواہد: عروہ بن زبیر سے یہ روایت ایک اور متصل طریق سے بھی آئی ہے:
فقد أخرجه البزار كما في "كشف الأستار" (1309)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (10718) من طريق محمد بن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبَير، عن عروة، عن عائشة. ومحمد بن إسحاق من هنا وإن لم يصرح بالسماع تصلح روايته هذه لتقوية وصل الحديث في الجملة، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار اور بیہقی نے محمد بن اسحاق عن محمد بن جعفر عن عروہ عن عائشہ کی سند سے روایت کیا ہے، یہ طریق حدیث کے متصل ہونے کی تقویت کے لیے کافی ہے۔
والجداد، بفتح الجيم وكسرها، وبمهملتين بينهما ألف: صِرام النخل، وهو قطع ثمرتها.
📝 توضیح: "الجداد" کا مطلب ہے کھجوروں کی کٹائی کرنا (پھل توڑنا)۔
والجَزُور: البعير ذكرًا كان أو أنثى، إلّا أنَّ اللفظة مؤنثة، تقول: هذه الجزور، وإن أردت ذكرًا.
📝 توضیح: "الجزور" سے مراد اونٹ ہے، چاہے وہ نر ہو یا مادہ، عربی میں یہ لفظ مؤنث ہی استعمال ہوتا ہے۔