🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. من طلب حقا فليطلب فى عفاف
جو اپنا حق مانگے وہ شرافت اور حیا کے ساتھ مانگے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2269
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن نافع، عن ابن عمر وعائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن طَلَبَ حقًّا فليطلُبْ في عَفافٍ، وافٍ أو غيرُ وافٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2238 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے حق کا مطالبہ کرے اس کو چاہیے کہ احسن انداز میں مطالبہ کرے۔ وہ پوری ادائیگی کرے یا نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2269]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2269 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري. ¤ ¤ وأخرجه ابن ماجه (2421)، وابن حبان (5080) من طرق عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے سند "حسن" ہے 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2421) اور ابن حبان (5080) نے سعید بن ابی مریم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال ابن حبان: قوله ﷺ: "في عفاف" شرطٌ أُريد به الزجر عن ضد العفاف مما لا يحلّ استعماله.
📌 اہم نکتہ: ابن حبان فرماتے ہیں کہ "عفاف" (پاکدامنی) کی شرط اس لیے لگائی گئی تاکہ حرام طریقوں سے بچنے کی تاکید کی جا سکے۔
وقوله: "وافٍ أو غيرُ وافٍ" قال السندي في "حاشيته على سنن ابن ماجه" 2/ 78: أي: فليطلبه حال كونه ساعيًا في عدم الوقوع في المحارم مهما أمكن، تم له العفاف أم لا، وهذا المعنى هو ظاهر اللفظ، ويحتمل أن يجعل وافٍ حالًا عن الحق على أنه مجرور في اللفظ على الجوار، ويُحتمل أن يكون مرفوعًا، والجملة حال، أي: هو وافٍ، أي: الحق، فلا يتعدى إلى المحارم، سواء وصل إليه وافيًا أم لا، وهذا المعنى أمتن.
📝 توضیح: "وافٍ أو غيرُ وافٍ" کا مطلب ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کرے چاہے اس میں اسے پورا عفاف (پاکدامنی) حاصل ہو یا نہ ہو 📌 اہم نکتہ: علامہ سندھی کے مطابق زیادہ بہتر معنی یہ ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ اس حال میں کرے کہ حرام کاموں سے بچنے کی پوری کوشش کرے، چاہے حق پورا ملے یا نہ ملے۔