🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن ثمن الكلب ، ومهر البغي ، وأجر الكاهن ، وكسب الحجام
رسولُ اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، بدکار عورت کی اجرت، کاہن کی مزدوری اور حجام کی کمائی سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2275
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا الحسن بن الربيع البُوراني الكوفي، حدثنا حفص بن غِياث، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن ثَمنِ الكلبِ والسِّنَّور (2) . تابعه عيسي بن يونس عن الأعمش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2244 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔
امام اعمش کی سند سے حفص بن غیاث نے بھی اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2275]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أبو سفيان: واسمُه طلحة بن نافع صدوق لا بأس به، وقد تابعه أبو الزُّبَير محمد بن مسلم بن تَدرُسَ المكي عند مسلم وغيره، كما سيأتي بيانه في الطريق الآتية برقم (2277).» [ترقيم الرساله 2275] [ترقيم الشركة 2257] [ترقيم العلميه 2244]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2275 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، أبو سفيان: واسمُه طلحة بن نافع صدوق لا بأس به، وقد تابعه أبو الزُّبَير محمد بن مسلم بن تَدرُسَ المكي عند مسلم وغيره، كما سيأتي بيانه في الطريق الآتية برقم (2277).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے 📝 توضیح: ابوسفیان کا نام طلحہ بن نافع ہے، وہ صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں، ان کی تائید ابوالزبیر محمد بن مسلم نے کی ہے جیسا کہ آگے نمبر (2277) پر آئے گا۔
وقد ضعَّف الترمذيُّ (1279)، وكذا ابنُ عبد البر في "التمهيد" 8/ 403 طريق أبي سفيان هذه، ولا يُسلَّم لهما ذلك، وحجة الترمذي أنه اختُلف فيه على الأعمش في ذكر أبي سفيان، لكن رواه عن الأعمش بذكر أبي سفيان كلٌّ من حفص بن غياث وعيسى بن يونس السَّبيعي، وكذا رواه وكيع عن الأعمش عند ابن أبي شيبة 6/ 414 وغيره، غير أنه قال: عن الأعمش، قال: أُرى أبا سفيان ذكره عن جابر، لكن هذا الشك يقطعه رواية حفص وعيسى. وحجّة ابن عبد البر أنَّ رواية أبي سفيان عن جابر صحيفة، وليس ذلك بطاعن عند أهل النقد ما دام الطريق إليها كلهم ثقات، ولهذا لما أورد العقيلي هذه الطريق في "الضعفاء" (699) قال: هذا إسناد صالح.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام ترمذی اور ابن عبدالبر نے ابوسفیان کے اس طریق کو ضعیف کہا ہے مگر ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی 📌 اہم نکتہ: ترمذی کی حجت یہ ہے کہ اعمش پر ابوسفیان کے ذکر میں اختلاف ہوا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ حفص بن غیاث، عیسیٰ بن یونس اور وکیع جیسے ثقہ راویوں نے اعمش سے ابوسفیان کے ذکر کے ساتھ ہی اسے روایت کیا ہے، لہٰذا شک کی گنجائش نہیں ⚖️ حکم / درجۂ حدیث: عقیلی نے اسے "صالح" (بہتر) سند قرار دیا ہے۔
وصحَّحه من هذه الطريق أيضًا ابن الجارود في "المنتقى" (580)، والبيهقي 6/ 11. ¤ ¤ والسِّنَّور: هو الهِرُّ.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اسے ابن الجارود اور بیہقی نے بھی صحیح قرار دیا ہے 📝 توضیح: "السِّنَّور" سے مراد بلّا (بلی) ہے۔
قال الخطابي في "معالم السنن" 3/ 130: النهي عن السِّنَّور متأوَّل على أنه إنما كُره من أجل أحد معنيين: إما لأنه كالوحشي الذي لا يُملك قيادُه، ولا يصح التسليمُ فيه، وذلك لأنه ينتابُ الناسَ في دُورهم ويطوف عليهم فيها، ثم يكاد ينقطع عنهم، وليس كالدواب التي تُربَط، ولا كالطير الذي يُحبس، وقد يتوحش بعد الأُنوسة، ويتأبد حتى لا يُقرَب ولا يُقدر عليه.
📌 مرکزی تحقیق: امام خطابی "معالم السنن" (3/ 130) میں فرماتے ہیں کہ بلی کی ممانعت کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ یہ وحشی جانور کی طرح ہے جسے قابو میں نہیں رکھا جا سکتا اور اس کی حوالگی (Delivery) مکمل نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے اور بندھے ہوئے جانوروں کی طرح نہیں ہوتی۔
والمعنى الآخر: أن يكون إنما نهى عن بيعه لئلا يتمانع الناسُ فيه، وليتعاوروا ما يكون منه في دُورهم فيرتفقوا به ما أقام عندَهم، ولا يتنازعوه إذا انتقل عنهم إلى غيرهم تنازعَ المُلّاك في النفيس من الأعلاق.
🔍 فقہی نکتہ: دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس کی خرید و فروخت سے اس لیے روکا گیا تاکہ لوگ اسے ایک دوسرے کو عاریت (استعمال کے لیے) دینے سے منع نہ کریں اور یہ گھروں میں چوہوں وغیرہ سے نفع پہنچاتی رہے، اور اس کی ملکیت پر جھگڑے نہ ہوں۔
وقيل: إنما نهى عن بيع الوحشي منه دون الإنسي.
📝 توضیح: یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممانعت صرف وحشی بلی کی ہے، پالتو بلی کی نہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2275 in Urdu