المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن ثمن الكلب ، ومهر البغي ، وأجر الكاهن ، وكسب الحجام
رسولُ اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، بدکار عورت کی اجرت، کاہن کی مزدوری اور حجام کی کمائی سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2276
أخبرَناهُ أبو بكر محمد بن أحمد (1) بن حاتم العَدْل بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة القَعنبي، حدثنا عيسى بن يونس، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن ثَمَنِ الكلب والسِّنَّور (2) . تابعه أبو الزُّبير عن جابر:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اس روایت کی تائید امام اعمش سے عیسیٰ بن یونس نے بھی کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2276]
اس روایت کی تائید امام اعمش سے عیسیٰ بن یونس نے بھی کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2276]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، عيسى بن يونس: هو ابن أبي إسحاق السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 2276] [ترقيم الشركة 2258]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2276 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في الأصلين والمطبوع: أحمد بن محمد، بتقديم أحمد على محمد، والمثبت على الصواب من "إتحاف المهرة" (2783)، ومن سائر مواضع روايات الحاكم عن هذا الرجل، حيث سماه في كل ذلك محمد بن أحمد بن حاتم، وكذلك جاء اسمه في "السنن الكبرى" للبيهقي في عدة مواضع من روايته عن الحاكم. وربما سماه الحاكم أبا بكر بن أبي نصر، وقد وثقه، كما في سؤالات السِّجْزي له الترجمة (320).
🔍 علّت / فنی نکتہ: اصل نسخوں میں "احمد بن محمد" چھپ گیا ہے جو کہ غلط ہے، درست "محمد بن احمد بن حاتم" ہے جیسا کہ "اتحاف المہرہ" اور حاکم کی دیگر روایات سے ثابت ہے، بیہقی نے بھی اسے حاکم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وللحاكم شيخٌ آخر اسمه أحمد بن محمد بن عبدوس بن حاتم الحاتمي المروَزي، ذكره في "تاريخ نيسابور"، وهو غير هذا، والله تعالى أعلم.
📝 توضیح: حاکم کے ایک اور شیخ احمد بن محمد بن عبدوس الحاتمی المروزی بھی ہیں، مگر وہ کوئی اور شخصیت ہیں، واللہ اعلم۔
(2) حديث صحيح كسابقه. عيسى بن يونس: هو ابن أبي إسحاق السَّبيعي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی سابقہ کی طرح "صحیح" ہے 📝 توضیح: عیسیٰ بن یونس سے مراد ابن ابی اسحاق السبیعی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3479)، والترمذي (1279) من طُرق عن عيسى بن يونس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3479) اور ترمذی (1379) نے عیسیٰ بن یونس کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2276 in Urdu