المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. من اشترى سرقة ، وهو يعلم أنها سرقة ، فقد شرك فى عارها وإثمها
جو شخص چوری کا مال جانتے بوجھتے خریدے وہ اس کی رسوائی اور گناہ میں شریک ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2284
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، قالا: حدثنا الحسن بن عبد الصمد بن عبد الله بن رَزِين السُّلَمي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا مسلم بن خالد الزَّنْجي، عن مصعب بن محمد المدني، عن شُرَحبيل مولى الأنصار، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال:"مَن اشترى سَرِقةً، وهو يعلم أنها سَرِقةٌ، فقد شَرِكَ في عارِها وإثمِها" (2) . شُرَحبيل هذا: هو ابن سعد الأنصاري، قد روى عنه مالك بن أنس بعد أن كان يُسيءُ الرأيَ فيه، والحديثُ صحيحٌ، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص چوری کی ہوئی چیز خریدے حالانکہ وہ یہ جانتا ہے کہ یہ چیز چوری کی ہے تو وہ شخص اس کے گناہ میں اور اس فعل قبیح میں برابر کا شریک ہے۔ ٭٭ یہ شرحبیل سعد انصاری کے بیٹے ہیں، ان سے سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے بھی حدیث روایت کی ہے۔ حالانکہ وہ ان کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2284]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2284 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف من أجل مسلم بن خالد الزَّنْجي وشرحبيل بن سعد مولى الأنصار. ¤ ¤ وقد اختلف في إسناده على مصعب بن محمد، فخالف مسلمًا الزنجيَّ فيه سفيان الثَّوري وسفيانُ بنُ عيينة، فروياه عن مصعب بن محمد، عن رجل من أهل المدينة، عن النبي ﷺ؛ يعني مرسلًا، وقال الدارقطني في "العلل" (2104): المرسل أشبه بالصواب.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند مسلم بن خالد الزنجی اور شرحبیل بن سعد کی وجہ سے "ضعیف" ہے ⚠️ سندی اختلاف: اس میں سفیان ثوری اور ابن عیینہ نے مخالفت کی ہے اور اسے "مرسل" روایت کیا ہے، امام دارقطنی کے بقول مرسل ہی زیادہ صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 335 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" (413)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (8112) من طريق يحيى بن يحيى النيسابوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ اور بیہقی نے یحییٰ بن یحییٰ النیسابوری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 6/ 577، وإسحاق بن راهويه (412)، وابن أبي عمر العدني في "مسنده" كما في "المطالب العالية" للحافظ ابن حجر (1346) عن وكيع بن الجراح، وأحمد بن منيع في "مسنده" كما في "المطالب" (1346) عن قَبيصة بن عقبة، كلاهما عن سفيان الثَّوري، عن مصعب بن محمد، عن رجل من أهل المدينة، عن النبي ﷺ، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ، اسحاق بن راہویہ اور وکیع بن الجراح نے سفیان ثوری کی سند سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وتابع سفيانَ الثَّوري سفيانُ بنُ عيينة كما قال الدارقطني في "العلل" (2104).
🧩 متابعات و شواہد: سفیان ثوری کی تائید سفیان بن عیینہ نے بھی کی ہے کہ یہ روایت مرسل ہی ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 1/ 328 من طريق ابن لهيعة، عن إسحاق بن أبي فروة، عن أبي صالح، عن أبي هريرة. وابن أبي فروة متروك الحديث، وابن لهيعة ضعيف.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: ابن عدی کی روایت "ضعیف" ہے کیونکہ ابن ابی فروہ متروک اور ابن لہیہ کمزور راوی ہیں۔