🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. بم يستحل أحدكم مال أخيه إن أصابته جائحة من السماء ؟
اگر آسمانی آفت آجائے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس حق سے حلال سمجھتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2287
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن الفضل بن موسى القُسْطاني، حدثنا هارون بن موسى، حدثنا أبو ضَمْرة، عن يحيى بن سعيد، أخبرني ابن جُرَيج، حدثنا أبو الزُّبَير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله ﷺ:"إن بعْتَ أخاك تمَراتٍ، فأصابَتْه جائحةٌ، فلا يَحِلُّ لك أن تأخذَ منه شيئًا، لِمَ تأخذُ مالَ أخيكَ بغيرِ إذنه؟!" (1) .
هذا حديث غريب صحيح على شرط الشيخين. ورواه محمد بن ثَور عن ابن جُرَيج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2256 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اپنے بھائی کے ہاتھ کھجوریں فروخت کیں اور پھر اسے کوئی آسمانی آفت پہنچ جائے، تو تمہارے لیے اس سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے، تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو؟!
یہ حدیث غریب اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2287]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفضل بن موسى القُسْطاني، فهو صدوق، وقد توبع. هارون بن موسى: هو الفَرْوي، وأبو ضمرة: هو أنس بن عياض.» [ترقيم الرساله 2287] [ترقيم الشركة 2269] [ترقيم العلميه 2256]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2287 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفضل بن موسى القُسْطاني، فهو صدوق، وقد توبع. هارون بن موسى: هو الفَرْوي، وأبو ضمرة: هو أنس بن عياض.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے، اور محمد بن الفضل القسطانی کی وجہ سے سند "حسن" ہے کیونکہ وہ صدوق ہیں اور ان کی تائید موجود ہے 📝 توضیح: ہارون بن موسیٰ الفروی ہیں اور ابو ضمرہ سے مراد انس بن عیاض ہیں۔
وأخرجه مسلم (1554)، وأبو داود (3470) من طريق عبد الله بن وهب، ومسلم (1554)، وأبو داود (3470)، وابن حبان (5035) من طريق أبي عاصم الضحاك بن مخلد، وابن ماجه (2219)، والنسائي (6074) من طريق ثور بن يزيد، والنسائي (6073)، وابن حبان (5034) من طريق حجاج بن محمد، أربعتهم عن ابن جُرَيج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1554)، ابوداؤد (3470)، ابن حبان، ابن ماجہ (2219) اور نسائی نے مختلف طرق سے ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2305) من طريق سليمان بن عتيق عن جابر، بلفظ: أنَّ رسول الله ﷺ وضع الجوائح.
🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت آگے نمبر (2305) پر سلیمان بن عتیق کے طریق سے ان الفاظ میں آئے گی: "رسول اللہ ﷺ نے آفات (جوائح) کی صورت میں نقصان وضع کرنے کا حکم دیا"۔
والجائحة: هي الآفة.
📝 توضیح: "الجائحة" سے مراد وہ آفت یا بیماری ہے جو فصل کو تباہ کر دے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2287 in Urdu