🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. الربا وإن كثر فإن عاقبته تصير إلى قل
سود اگرچہ زیادہ ہو مگر انجام کار کمی ہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2293
أخبرنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، حدثنا إسرائيل، عن الرُّكين بن الرَّبيع. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو كامل وحجّاج، قالا: حدثنا شَريك (1) ، عن الرُّكَين بن الرَّبيع، عن أبيه الرَّبيع بن عُمَيلة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"الرِّبا وإِن كَثُر فَإِنَّ عاقبتَه تَصيرُ إلى قُلٍّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2262 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود سے اگرچہ مال (وقتی طور پر) بڑھ تو جاتا ہے لیکن بالآخر کم ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2293]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2293 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في (ب): إسرائيل، بدل: شريك، وهو خطأ.
🔍 علّت / فنی نکتہ: نسخہ (ب) میں "شریک" کی جگہ "اسرائیل" لکھا ہے جو کہ صریح غلطی ہے۔
(2) إسناده صحيح من جهة إسرائيل - وهو ابن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي - حسن من جهة شريك - وهو ابن عبد الله النخعي -. حجاج: هو ابن محمد المِصِّيصي، وأبو كامل: هو مُظفَّر بن مُدرِك الخُراساني.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اسرائیل کی وجہ سے سند "صحیح" اور شریک کی وجہ سے "حسن" ہے 📝 توضیح: حجاج بن محمد المصیصی ہیں اور ابو کامل سے مراد مظفر بن مدرک ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 6/ (3754) عن حجاج بن محمد، و 7/ (4026) عن أبي كامل.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (6/ 3754) اور (7/ 4026) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2279) عن العباس بن جعفر بن الزبرقان، عن عمرو بن عون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2279) نے عمرو بن عون کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8090) من طريق يعقوب بن سفيان عن عمرو بن عون.
🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت آگے نمبر (8090) پر یعقوب بن سفیان کے طریق سے آئے گی۔
والقُلُّ: القِلّة، كالذُّل والذِّلّة، أي: أنه وإن كان زيادةً في المال عاجلًا فإنه يؤول إلى نقص، كقوله تعالى: ﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾.
📝 توضیح: "القُلُّ" کا مطلب ہے کمی؛ یعنی سود اگرچہ ظاہری طور پر مال بڑھاتا ہے لیکن انجام کار یہ مال میں برکت کی کمی اور تباہی کا باعث بنتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے"۔