المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
69. حفظ الحوائط بالنهار على أهلها ، و حفظ الماشية بالليل على أهلها ، و على أهل الماشية ما أصابت ماشيتهم
دن کے وقت باغات کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے، اور مویشی جو نقصان کریں اس کا ذمہ بھی انہی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2336
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا موسى بن أعْيَن، عن يحيى بن أيوب، عن ابن جُرَيج، أنَّ أبا الزُّبَير حدثه عن جابر: أنَّ النبي ﷺ اشترى من أعرابي - حسبت أنه قال: من بني عامر بن صَعْصَعَة - حِمْلَ خَبَطٍ، فلما وجبَ له، قال له النبيُّ ﷺ:"اختَرْ"، فقال الأعرابي: إن رأيتُ كاليوم مثلَك بَيِّعًا، عَمْرَكَ اللهَ ممَّن أَنتَ؟ قال:"من قُريش" (1) . تابعه ابن وهب عن ابن جُرَيج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2305 - تابعه ابن وهب عن ابن جريج على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2305 - تابعه ابن وهب عن ابن جريج على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے درخت کی شاخوں کا ایک گٹھہ خریدا (راوی فرماتے ہیں) میرا یہ خیال ہے وہ شخص بنی عامر بن صعصعہ میں سے تھا، جب سودا پکا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہا: پسند کر لیں، دیہاتی نے جواباً کہا: اللہ تعالیٰ تجھے لمبی عمر دے، میں نے آج تک تیرے جیسا سوداگر نہیں دیکھا، تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرا تعلق) قریش سے ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو ابن جریج سے روایت کرنے میں ابن وہب نے یحیی بن ایوب کی متابعت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2336]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2336 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد قد صرَّح فيه ابنُ جُرَيج بسماعه من أبي الزُّبَير - وهو محمد بن مسلم بن تدرُس المكي - هنا في هذه الطريق وفي الطريق التالية.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ان شاء اللہ صحیح ہے۔ اس سند میں ابن جریج نے ابوزبیر سے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے۔
ويحيى بن أيوب - وهو الغافقي - حسن الحديث لكن تابعه عبد الله بن وهب كما في الطريق التالية، فيصحُّ الحديثُ إن شاء الله تعالى، وانظر تمام الكلام عليه وتخريجه فيما سيأتي.
🧩 متابعات و شواہد: یحییٰ بن ایوب حسن الحدیث ہیں اور عبداللہ بن وہب نے ان کی متابعت کی ہے، جس سے حدیث صحیح ثابت ہوتی ہے۔
الخَبَط: ما سقط من ورق الشجر بالخَبْط والنَّفْض.
📝 لغوی تشریح: "خَبَط" ان پتوں کو کہتے ہیں جو جھاڑنے یا ہٹانے سے درخت سے گریں۔
وقوله: "عَمْرَك اللهَ" أي: أسأل الله تعميرك وأن يُطيل عمرك، والعَمْر، بالفتح: العُمر، ولا يقال في القَسَم إلّا بالفتح.
📝 لغوی تشریح: "عَمْرَک اللہ" کا مطلب ہے "میں اللہ سے آپ کی طویل عمر کا سوال کرتا ہوں"۔ قسم میں اسے ہمیشہ زبر (فتحہ) کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
والبَيّع: اسم يطلق على البائع والمشتري، يُقال لكل منهما: بائع وبيّع. ونصبه على التمييز.
📝 لغوی تشریح: "بیّع" کا لفظ بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔